اے آئی کے باعث سوچنے کی صلاحیت متاثر، سافٹ ویئر انجینیئرز بھی خود کو بے مقصد تصور کرنے لگے

ایک ٹیکنالوجی کمپنی کے ملازم کی سوشل میڈیا پوسٹ نے مصنوعی ذہانت یا اے آئئی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس کے سافٹ ویئر انجینیئرز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ریڈٹ پر شیئر کی گئی ایک وائرل پوسٹ میں ٹیک ملازم نے دعویٰ کیا کہ کمپنی کی جانب سےکلاڈ اور  گٹ ہب کوپائلٹ جیسے اے آئی ٹولز متعارف کرانے کے بعد اس کے کام کی نوعیت مکمل طور پر بدل گئی ہے جس کے باعث وہ خود کو بے مقصد اور شدید مایوس محسوس کر رہا ہے۔

اس نے لکھا کہ اب اس کا زیادہ تر وقت صرف اے آئی کو پرومپٹس (ہدایات) دینے، اس کے تیار کردہ کوڈ پر سرسری نظر ڈالنے اور اسے جمع کرنے میں گزرتا ہے۔

اس کے مطابق اگر وہ اے آئی کے تیار کردہ کوڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کی کوشش کرے اور اس سے منصوبے کی رفتار سست ہو جائے تو کمپنی اسے ناپسند کرتی ہے۔

ٹیک ملازم نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کی سیکھنے کی صلاحیت گویا رک سی گئی ہے کیونکہ اب وہ عملی طور پر خود کچھ نہیں کر رہا۔

اس نے بتایا کہ تقریباً 3 ہفتوں بعد جب اس نے خود اپنے ہاتھ سے کوڈ کی ایک لائن لکھنے کی کوشش کی تو وہ زیادہ تر وقت یہ سمجھ ہی نہیں سکا کہ کیا کرنا ہے۔

ملازم کا کہنا ہے کہ مجھے پہلے ہی محسوس ہونے لگا ہے کہ اے آئی کوڈ کو سمجھنے اور اس پر منطقی انداز میں سوچنے کی میری صلاحیت چھین رہی ہے۔

اس نے مزید کہا کہ کمپنی کی انتظامیہ مسلسل دیگر ٹیموں کی مثال دیتے ہوئے کہتی ہے کہ سب لوگ اے آئی کے ذریعے تیزی سے کام کر رہے ہیں لیکن کوئی یہ سوچنے کے لیے تیار نہیں کہ کہیں ہم ایسا کوڈ تو نہیں بنا رہے جسے مستقبل میں کوئی سمجھ ہی نہ سکے۔

یہ پوسٹ وائرل ہونے کے بعد متعدد سوشل میڈیا صارفین نے بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کیا۔

ایک صارف نے لکھا کہ اب آئی ٹی کا کام پہلے جیسا دلچسپ نہیں رہا کیونکہ زیادہ تر وقت صرف اے آئی کو ہدایات دینے میں گزرتا ہے جبکہ اگر کوئی خود کوڈ کا جائزہ لینے میں وقت لگائے تو مینیجر ناراضی کا اظہار کرتا ہے۔

ایک طالب علم نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کمپیوٹر سائنس کے تیسرے سال میں ہے لیکن اے آئی کی تیز رفتار ترقی نے اسے اپنے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے۔

ایک اور صارف نے دعویٰ کیا کہ اے آئی کمپنیاں جان بوجھ کر لوگوں کو ان ٹولز کا عادی بنا رہی ہیں تاکہ مستقبل میں ان پر مکمل انحصار پیدا ہو جائے۔

ایک تبصرہ نگار نے لکھا کہ اب بیشتر ڈویلپرز صرف ٹکٹ کی تفصیلات اور ڈیزائن اے آئی کو دے کر نتیجہ حاصل کرتے ہیں جس سے خدشہ ہے کہ نئے پروگرامرز کبھی حقیقی معنوں میں مہارت حاصل نہیں کر سکیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اے آئی سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ میں رفتار اور پیداواری صلاحیت بڑھا رہی ہے تاہم اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہوتا جا رہا ہے کہ آیا مسلسل خودکار ٹولز پر انحصار پروگرامرز کی تجزیاتی صلاحیت، مسئلہ حل کرنے کی مہارت اور عملی سیکھنے کے عمل کو متاثر کر سکتا ہے یا نہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

کارگو طیارے کا ملبہ مل گیا، عملے کی تلاش، تحقیقات تیز، کے ٹو ایئر ویز کا آفس سیل

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے شارجہ سے کراچی آنے والے کارگو طیارے کے

Read More

واٹس ایپ کے ذریعے تاجر سے 50 لاکھ روپے بھتہ طلب، انکار پر دھمکیاں

کراچی:  شہر قائد میں بھتہ خوری کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں سولجر

Read More

TECHNOLOGY

واٹس ایپ پر آن لائن صارفین کی شناخت آسان، ’گرین ڈاٹ‘ فیچر کی آزمائش شروع

میٹا کی زیرِ ملکیت مقبول پیغام رسانی ایپ واٹس ایپ نے صارفین کے لیے آن

Read More

راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں

گوگل میپس، جو اب تک دنیا بھر میں راستوں کی رہنمائی اور منزل تک رسائی

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.