قطر کے ایل این جی پلانٹ میں دھماکا، 54 افراد زخمی، 18 لاپتا

قطر کے اہم مائع قدرتی گیس (ایل این جی) مرکز راس لفان انڈسٹریل سٹی میں واقع بارزان گیس سپلائی فیسلٹی میں دھماکے اور آگ لگنے کے نتیجے میں کم از کم 54 افراد زخمی جبکہ 18 لاپتا ہو گئے ہیں۔ قطری حکام کے مطابق حادثہ آپریشنز کے آغاز کے دوران تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا، جبکہ لاپتا افراد کی تلاش اور امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

سرکاری توانائی کمپنی قطر انرجی کے مطابق راس لفان انڈسٹریل سٹی میں آپریشنز کے آغاز کے دوران بارزان مقامی گیس سپلائی فیسلٹی میں حادثہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں دھماکا اور آگ بھڑک اٹھی۔

کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہنگامی امدادی ٹیموں کو فوری طور پر موقع پر روانہ کیا گیا اور آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

قطر کی وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی کہ حادثے میں 54 افراد زخمی ہوئے جبکہ 18 افراد لاپتا ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔ وزارت کے مطابق واقعہ ایک ’تکنیکی حادثے‘ کا نتیجہ تھا اور اس سے کسی قسم کی گیس لیکج نہیں ہوئی جس سے عوامی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوتا۔

بیان میں کہا گیا کہ قطری بین الاقوامی سرچ اینڈ ریسکیو گروپ سول ڈیفنس کے عملے کے تعاون سے لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہے۔

وزارتِ داخلہ نے ابتدائی طور پر واقعے کو’اندرونی دھماکا ‘ قرار دیا، جبکہ بعد ازاں جاری کیے گئے بیان میں واضح کیا گیا کہ حادثہ تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا۔

وزارت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ راس لفان انڈسٹریل سٹی میں واقع ایک فیکٹری میں پیش آنے والے حادثے میں مجموعی طور پر 54 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 18 لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔

تاہم قطر انرجی نے یہ واضح نہیں کیا کہ دھماکے سے گیس تنصیب کو کس حد تک نقصان پہنچا ہے۔ مذکورہ پلانٹ ملکی ضروریات کے لیے گیس کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اس سے قبل خبر رساں ادارے رائٹرز کے ایک عینی شاہد نے بتایا تھا کہ دارالحکومت دوحہ میں بھی ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی، جو راس لفان تنصیب کے جنوب میں واقع ہے۔

جنگ کے بعد پہلے سے متاثر تنصیبات

راس لفان کی توانائی تنصیبات اس سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ کے دوران بھی شدید متاثر ہوئی تھیں۔ ایرانی حملوں میں خلیجی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں قطر کو گیس کی پیداوار عارضی طور پر روکنا پڑی تھی۔

دنیا میں مائع قدرتی گیس پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل قطر نے 2 مارچ کو ایرانی ڈرون حملوں کے بعد ایل این جی کی پیداوار معطل کر دی تھی۔ ان حملوں میں توانائی کے اہم مراکز کو نقصان پہنچا تھا۔

بعد ازاں 18 مارچ کو ہونے والے مزید حملوں کے باعث برآمدی صلاحیت میں تقریباً 17 فیصد کمی آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ اس وقت قطر کے وزیر توانائی سعد الکعبی نے کہا تھا کہ متاثرہ تنصیبات کی مکمل بحالی میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔

قطر عالمی سطح پر مائع قدرتی گیس کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں شمار ہوتا ہے اور امریکا، آسٹریلیا اور روس کے ساتھ عالمی توانائی منڈی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ حالیہ حادثے نے ایک بار پھر ملک کے توانائی کے شعبے اور خطے کی توانائی سلامتی کے حوالے سے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

ایف پی سی سی آئی پر ویزا فروخت سے متعلق الزامات بے بنیاد، من گھڑت اور حقائق کے منافی ہیں

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سیکریٹری جنرل نے 21 جولائی 2026

Read More

وفاقی وزرا کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے آزاد کشمیر کا معاملہ پیچیدہ ہورہا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے حالیہ بحران

Read More

TECHNOLOGY

اسپوٹیفائی نے پریمیم صارفین کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ فیچر متعارف کرا دیا

 موسیقی کی معروف ایپ اسپوٹیفائی نے پریمیم صارفین کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نیا

Read More

یوٹیوب پر نوعمر صارفین کو مضر ویڈیوز کی سفارش، نئی تحقیق میں تشویشناک انکشاف

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ یوٹیوب اب بھی نوعمر صارفین کو کھانے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.