ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ کروا کر پاکستان نے دنیا کو کتنے بڑے نقصان سے بچایا ہے؟

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے دنیا کو ایک بڑے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا، جس کے اثرات عالمی معیشت، عالمی امن، توانائی کی منڈیوں، خوراک کی قیمتوں، فضائی سفر اور مالیاتی نظام تک محسوس کیے جا رہے تھے۔

تاہم حالیہ ایران۔امریکا معاہدے اور کشیدگی میں کمی نے نہ صرف ایک بڑے جغرافیائی سیاسی تصادم کا خطرہ کم کیا، بلکہ عالمی معیشت کو اربوں بلکہ کھربوں ڈالر کے ممکنہ نقصان سے بھی بچا لیا۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر’ آبنائے ہرمز‘ طویل عرصے تک بند رہتی اور تنازع مزید شدت اختیار کرتا، تو دنیا کو شدید مہنگائی، سست روی اور توانائی کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔

سینیئر تجزیہ کار ابصار عالم نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اپنی سفارت کاری کے ذریعے نہ صرف ایک اہم جنگ کے خاتمے میں کردار ادا کیا، بلکہ خطے میں مزید ممکنہ تنازعات کو بھی روکنے میں مدد دی۔ پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں ایران اور عرب ممالک کے درمیان ممکنہ کشیدگی کم ہوئی، جبکہ لبنان اور غزہ میں بھی جنگ بندی کی راہ ہموار ہوئی۔

ابصار عالم نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، عسکری قیادت، وزارتِ خارجہ اور پاکستانی سفارتی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شدید دباؤ، غلط معلومات اور پروپیگنڈے کے ماحول میں صبر و تحمل کے ساتھ مؤثر سفارت کاری کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مختلف ذرائع سے گمراہ کن معلومات پھیلائی گئیں، تاہم پاکستانی قیادت نے مسلسل عوام اور عالمی برادری کو محتاط رہنے کا پیغام دیا۔

پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے ایک اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دنیا بھر میں ’یہودی سفارتکاری‘ مشہور ہے، لیکن پاکستانیوں نے اس کو بھی شکست دی ہے۔

اسٹاک ایکسچینج ماہر سردار سہیل اور سینیئر تجزیہ کار ابصار عالم نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی امن اور معیشت کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے کشیدگی کے خاتمے اور جنگ بندی کے معاہدوں میں مؤثر کردار ادا کر کے دنیا کو بڑے نقصان سے بچایا۔

سردار سہیل کے مطابق اگر خطے میں جاری تنازع مزید طول پکڑتا، تو اس کے اثرات صرف جنگ زدہ علاقوں تک محدود نہ رہتے بلکہ عالمی معیشت شدید بحران کا شکار ہو جاتی۔

انہوں نے کہا کہ مختصر دورانیے کی جنگ کے باوجود دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں اور معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے، جبکہ طویل جنگ عالمی اقتصادی نظام کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی تھی۔

انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان کی عسکری قیادت کی سفارتی کاؤشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان ثالثی کا کردار ادا نہ کرتا، تو عالمی حالات آج مختلف ہوتے۔ ان کے مطابق امریکا سمیت بڑی عالمی طاقتوں نے بھی جنگ بندی کے معاہدے کو اس لیے خوش آمدید کہا کیونکہ مسلسل کشیدگی سے عالمی معیشت اور خود امریکی مفادات کو بھی خطرات لاحق تھے۔

تیل کی عالمی منڈی کو بڑا ریلیف

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران ‘آبنائے ہرمز’ کی بندش کے خدشات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی سپلائی اسی اہم بحری گزرگاہ سے گزرتی ہے۔

جنگی صورتحال کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جبکہ تنازع شروع ہونے سے قبل یہ قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بھی کم تھی۔

معاہدے کی خبر سامنے آنے کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر تقریباً 83.55 ڈالر فی بیرل تک آگئی، جس سے عالمی منڈیوں میں اعتماد بحال ہوا اور توانائی کے بحران کے خدشات میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ’آبنائے ہرمز‘ کی بندش طویل ہوتی، تو تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی تھیں، جس سے دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ دیکھنے میں آتا۔

عالمی مہنگائی میں اضافے کا خطرہ ٹل گیا

ورلڈ بینک نے خبردار کیا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع عالمی معیشت کی رفتار کو ‘کورونا وبا’ کے بعد کم ترین سطح پر لا سکتا ہے۔ ادارے نے 2026 کے لیے عالمی شرحِ نمو کا تخمینہ 2.9 فیصد سے کم کر کے 2.5 فیصد کر دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اگر توانائی کی سپلائی مزید متاثر ہوتی، تو عالمی اقتصادی ترقی صرف 1.3 فیصد تک گر سکتی تھی جبکہ مہنگائی 4.4 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ تھا۔ معاہدے کے بعد ان خطرات میں نمایاں کمی آئی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہو گیا۔

خوراک کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کی امید

تیل کی بڑھتی قیمتوں کے ساتھ کھاد کی قیمتوں میں بھی شدید اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ کھاد کی تیاری کا انحصار بڑی حد تک توانائی پر ہوتا ہے۔ عالمی زرعی ماہرین کے مطابق کھاد مہنگی ہونے سے کسانوں کے پیداواری اخراجات میں اضافہ ہوا اور خوراک کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ معاہدہ ہونے سے آنے والے مہینوں میں زرعی منڈیوں میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

فضائی صنعت کو بھی بڑا فائدہ

تنازع کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود میں غیر یقینی صورتحال کے باعث دنیا بھر میں تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار پروازیں منسوخ، ملتوی یا متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

 پاکستان سمیت کئی ممالک کے ہزاروں مسافروں کو سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؛ جیٹ فیول کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا، جس سے ایئرلائنز کے اخراجات بڑھ گئے اور فضائی کرایوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ معاہدے کے بعد جیٹ فیول کی قیمتوں میں کمی کا رجحان شروع ہو چکا ہے، جس سے فضائی صنعت کو ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

اسٹاک مارکیٹوں میں کھربوں ڈالر کی بحالی

جنگ بندی اور سفارتی پیش رفت کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا۔ عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں تقریباً 2.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ امریکی ’ایس اینڈ پی 500‘  انڈیکس سمیت کئی اہم مارکیٹوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کشیدگی میں کمی کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا اور عالمی سطح پر ہزاروں ارب ڈالر کی مارکیٹ ویلیو دوبارہ بحال ہوئی۔

ڈالر اور عالمی مالیاتی نظام پر اثرات

کشیدگی کے دوران سرمایہ کاروں نے محفوظ اثاثوں کا رخ کیا، جس سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہوئی۔ بعض ماہرین نے ڈالر کی عالمی بالادستی پر بھی سوالات اٹھائے، خصوصاً ایسے وقت میں جب بعض ممالک تیل کی تجارت میں مقامی کرنسیوں کے استعمال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

معاہدے کے بعد مالیاتی منڈیوں میں استحکام آیا اور عالمی سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری کے آثار نمایاں ہوئے۔

معاشی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگر ایران اور امریکا تنازع مزید شدت اختیار کرتا، ‘آبنائے ہرمز’ بند رہتی اور توانائی کی سپلائی طویل عرصے تک متاثر ہوتی، تو دنیا کو کھربوں ڈالر کے معاشی نقصانات، شدید مہنگائی، عالمی کساد بازاری، خوراک کے بحران اور سپلائی چین کی تباہی جیسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔

ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ معاہدہ اگرچہ خطے میں مکمل استحکام کی ضمانت نہیں، تاہم اس نے عالمی معیشت کو ایک ایسے بحران سے بچا لیا ہے جس کے اثرات دنیا کے ہر ملک اور ہر شہری تک پہنچ سکتے تھے۔

Share On Social Media

TECHNOLOGY

اوورسیز پاکستانی اور غیرملکی، پاکستان میں کتنے دن ذاتی فون ٹیکس فری استعمال کرسکتے ہیں؟

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اوورسیز پاکستانیوں اور غیر ملکی شہریوں کے

Read More

انڈس اے آئی ویک 2026: پی ٹی سی ایل جدید ترین اے آئی سہولیات کی نمائش کرے گی

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) مصنوعی ذہانت کے قومی پلیٹ

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.