گلگت بلتستان حکومت سازی، وزیراعلیٰ کے لیے پیپلز پارٹی اراکین میں رسہ کشی، مضبوط امیدوار کون؟

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو حکومت بنانے کا گرین سگنل ملنے کے بعد مرکزی رہنماؤں نے گلگت میں ڈیرے ڈال کر مشاورت شروع کردی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ کے لیے لابنگ بھی عروج پر ہے۔

پیپلز پارٹی کے کئی مرکزی رہنما جن میں قمر زمان کائرہ، نیئر بخاری، ندیم افضل چن اور دیگر شامل ہیں، گلگت بلتستان میں موجود ہیں اور حکومت سازی کے لیے مقامی رہنماؤں اور اراکین کے ساتھ ملاقاتیں اور مشاورت کررہے ہیں۔

اندرونی حالات سے باخبر ذرائع کے مطابق کامیاب ہونے والے اراکین نے وزیراعلیٰ اور کابینہ میں شمولیت کے لیے لابنگ شروع کردی ہے اور پارٹی کے اندر اپنے تعلقات اور اثر و رسوخ کو استعمال کررہے ہیں۔

گلگت بلتستان الیکشن
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی 24 عام نشستوں کے لیے 7 جون کو انتخابات ہوئے تھے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا، تاہم حتمی نتائج کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔

غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) 9 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور آزاد امیدوار 5،5 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

ابتدائی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی نے جی بی اے ایک، جی بی اے 4، جی بی اے 6، جی بی اے 7، جی بی اے 9، جی بی اے 10، جی بی اے 11، جی بی اے 12 اور جی بی اے 19 میں کامیابی حاصل کی ہے۔

پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد ایڈووکیٹ وزیراعلیٰ کے لیے مضبوط امیدوار
مسلم لیگ (ن) نے جی بی اے 2، جی بی اے 14، جی بی اے 18، جی بی اے 20 اور جی بی اے 22 میں کامیابی حاصل کی، جبکہ آزاد امیدوار جی بی اے 3، جی بی اے 5، جی بی اے 21، جی بی اے 23 اور جی بی اے 24 سے کامیاب قرار پائے ہیں۔

الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے انتخابات کے مجموعی انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولنگ پرامن ماحول میں ہوئی اور ٹرن آؤٹ قریباً 70 فیصد رہا۔

الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے 5 انتخابی حلقوں کے 26 پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کرانے کے احکامات جاری کیے تھے، جبکہ ان پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج آنے تک حتمی نتائج کے اعلان کو عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔

پیپلز پارٹی کی حکومت سازی کی تیاریاں
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاق پر گلگت بلتستان میں حکومت سازی میں اثر انداز ہونے کا الزام لگایا تھا۔ بلاول کے مطابق پی پی پی سب سے زیادہ نشستیں جیت چکی ہے، جبکہ ن لیگ 5 نشستوں کے ساتھ حکومت بنانے کی کوشش کررہی ہے۔

بلاول بھٹو کے الزامات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کو یقین دہانی کرا دی ہے کہ ن لیگ حکومت سازی میں مداخلت نہیں کرے گی۔ تاہم ن لیگ کے خرم دستگیر نے ’وی نیوز‘ کو بتایا کہ ن لیگ گلگت بلتستان میں حکومت سازی کی پوزیشن میں ہے اور آزاد اراکین ن لیگ کے ساتھ ہیں۔

ہر کوئی وزیراعلیٰ کا امیدوار، مضبوط کون؟
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں کامیاب ہونے والے بیشتر نئے منتخب اراکین خود کو وزیراعلیٰ کے امیدوار کے طور پر پیش کررہے ہیں اور پارٹی میں اپنے تعلقات اور خاندانی اثر و رسوخ کو استعمال کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ایک رہنما نے بتایا کہ جلد وزیراعلیٰ کے نام کا اعلان ہو جائے گا۔

ممتاز گوہر گلگت بلتستان کے صحافی ہیں اور سیاسی معاملات پر ان کی گہری نظر ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ واضح برتری کے باوجود بھی پی پی پی حکومت سازی میں تاخیر کررہی ہے جس کا نقصان ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پارٹی کے اہم رہنما گلگت میں موجود ہیں، لیکن آزاد اراکین نے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت 4 اراکین ایسے ہیں جو خود کو وزیراعلیٰ کے امیدوار کے طور پر سامنے لا رہے ہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے ہمراہ رکن اسمبلی سید جلال علی شاہ کی گروپ فوٹو
ممتاز گوہر کے مطابق پی پی پی گلگت بلتستان کے صدر اور سابق اپوزیشن لیڈر امجد ایڈووکیٹ انتخابی مہم کے دوران ہی خود کو وزیراعلیٰ قرار دیتے رہے ہیں اور اس وقت انہیں مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امجد ایڈووکیٹ لوکل کونسل کی سطح سے سیاست کرتے ہوئے یہاں تک پہنچے ہیں اور اس وقت پارٹی کے صوبائی صدر بھی ہیں۔

امجد ایڈووکیٹ کے مقابلے میں 2 نوجوان امیدوار بھی ہیں، جن میں سابق وزیراعلیٰ مہدی شاہ کے بیٹے توقیر مہدی شاہ اور سابق گورنر کے بیٹے سید جلال علی شاہ شامل ہیں، جبکہ عمران ندیم نے بھی خود کو اس دوڑ میں شامل کر لیا ہے۔

’گلگت بلتستان میں وزیراعلیٰ کا انتخاب اور کابینہ سازی انتہائی مشکل مرحلہ‘
گلگت سے تعلق رکھنے والے صحافی ذاکر بلتستانی کے مطابق گلگت بلتستان میں وزیراعلیٰ کا انتخاب اور کابینہ سازی انتہائی مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ اس میں علاقائی توازن سمیت دیگر پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔

ذاکر بلتستانی کے مطابق امجد ایڈووکیٹ شروع دن سے امیدوار ہیں اور ویس کوٹ بھی شاید تیار کر چکے ہوں گے، لیکن مقامی سطح پر پارٹی کے اندر ان کی مخالفت موجود ہے۔

انہوں نے کہاکہ پارٹی کے اندر امجد ایڈووکیٹ کی نسبت مہدی شاہ کی پوزیشن زیادہ مضبوط ہے اور ان کی آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری تک براہِ راست رسائی اور تعلقات ہیں۔

’مہدی شاہ کے بیٹے توقیر مہدی کی وزیراعلیٰ بننے کے لیے لابنگ‘
ان کے مطابق مہدی شاہ کے بیٹے توقیر مہدی شاہ بھی وزیراعلیٰ کے مضبوط امیدوار ہیں، جبکہ سید جلال علی شاہ نوجوان ہیں لیکن پارٹی میں ان کا زیادہ اثر و رسوخ نہیں ہے، البتہ ان کے مرحوم والد کے دوست موجود ہیں جن کے ذریعے وہ کوشش کر رہے ہیں۔

گورنر گلگت بلتستان مہدی شاہ اور ان کے فرزند توقیر مہدی (نومنتخب رکن اسمبلی) شاہ بلاول بھٹو کے ساتھ
ذاکر بلتستانی کے مطابق توقیر شاہ اور جلال علی نوجوان ہیں، جبکہ پارٹی میں زیادہ تر رہنماؤں کی رائے ہے کہ شاید ایسے امیدوار کو اہمیت دی جائے جو سب کو ساتھ لے کر چل سکے۔

ذاکر بلتستانی نے بتایا کہ عمران ندیم بھی پارٹی کے دیرینہ رکن ہیں اور ان کا نام بھی پارٹی قیادت کے پاس زیر غور ہے۔

ممتاز گوہر کا ماننا ہے کہ اس وقت امجد ایڈووکیٹ مضبوط امیدوار ہیں، لیکن ساتھ ہی انہوں نے واضح کیاکہ سیاسی فیصلے راتوں رات بدل جاتے ہیں اور ممکن ہے کہ کسی غیر متوقع رکن کا نام بھی سامنے آ جائے۔

Share On Social Media

KARACHI

مہنگائی کم یا عوام کیلئے نیا جھٹکا؟ ٹماٹر، پیاز اور آٹے کی قیمتوں میں پھر اضافہ

ملک میں ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی

Read More

کراچی میں راستہ نہ دینے پر فیملی کے ساتھ سرعام بدسلوکی کے واقعے کا ڈراپ سین

کراچی کے علاقے فیروز آباد میں بگڑے امیر زادے جوڑے کی جانب سے کار سوار

Read More

TECHNOLOGY

یوٹیوب میں اے آئی سرچ فیچر متعارف

 گوگل نے اپنی مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کو مزید وسعت دیتے ہوئے یوٹیوب کے لیے ایک

Read More

گوگل نے اپنے نئے ایپ آئیکونز متعارف کرا دیے

ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے اپنے نئے، ری ڈیزائن کیے گئے اور کچھ حد تک منفرد نظر

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.