ایران پر 24 گھنٹوں میں حملے کا امکان ہے: امریکی میڈیا کا دعویٰ

خلیجی خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے جہاں تازہ فوجی نقل و حرکت اور سخت بیانات نے ایک بڑے ممکنہ ٹکراؤ کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ امریکی میڈیا کی رپورٹس اور متحدہ عرب امارات کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق اگلے 24 گھنٹے انتہائی اہم ہو سکتے ہیں کیونکہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایران پر کسی بھی وقت حملہ متوقع ہے۔

متحدہ عرب امارات کے ایک عہدیدار نے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کو بتایا کہ حالیہ واقعات نے صورتحال کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں اب ایک مربوط فوجی جواب پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔

یہ وارننگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب متحدہ عرب امارات کے علاقے فجیرہ میں ایک تیل کی تنصیب پر ڈرون حملہ ہوا اور دبئی کی فضاؤں میں میزائلوں کو ناکارہ بنایا گیا ہے۔

سمندری حدود میں بھی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی بحری جہازوں اور تجارتی جہازوں پر کروز میزائلوں اور ڈرون حملوں کے جواب میں امریکی فوج نے ایران کی چھ کشتیوں کو تباہ کر دیا ہے۔

اسی حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایرانی فورسز کی سات کشتیاں تباہ کی ہیں جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنا رہی تھیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے جنوبی کوریا کے مال بردار جہاز سمیت دیگر غیر متعلقہ ممالک کے جہازوں پر حملے کیے ہیں، اب شاید وقت آ گیا ہے کہ جنوبی کوریا بھی ہمارے مشن کا حصہ بن جائے۔

صدر ٹرمپ نے ’فاکس نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے سخت وارننگ دی کہ اگر ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز یا خلیج فارس میں امریکی جہازوں کو نشانہ بنایا تو انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب صرف دو ہی راستے بچے ہیں، یا تو مذاکرات کے ذریعے معاہدہ ہو جائے یا پھر مکمل فوجی کارروائی کی طرف واپسی ہو۔

اس کشیدگی کے معاشی اثرات بھی پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز جو کہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، وہاں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ اسٹاک مارکیٹس مندی کا شکار ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بحری راستہ بند رہا تو امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں پانچ ڈالر فی گیلن تک جا سکتی ہیں۔

دوسری جانب یہ تنازع صرف خلیج تک محدود نہیں رہا بلکہ لبنان میں بھی اسرائیلی فوج نے جنوبی علاقوں کے دس دیہاتوں کو خالی کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں، جس سے ایک وسیع علاقائی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

تقریباً ایک ماہ کی خاموشی کے بعد دوبارہ شروع ہونے والی اس کشیدگی نے سفارتی کوششوں کو بھی دھچکا پہنچایا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایرانی تجاویز کو ناکافی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے جبکہ خطے میں فوجوں کی دوبارہ تعیناتی اور طیاروں کی نقل و حرکت ظاہر کرتی ہے کہ فوجی منصوبہ بندی اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔

اس وقت پوری دنیا کی نظریں ان اہم گھنٹوں پر جمی ہوئی ہیں جو خطے کے مستقبل اور عالمی امن کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

کراچی؛ مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5زخمیوں سمیت 8 ملزمان گرفتار، اسلحہ اور مسروقہ سامان برآمد

مختلف علاقوں میں پولیس اور مسلح ڈاکوؤں کے درمیان مبینہ مقابلوں کے دوران پولیس نے

Read More

سندھ طاس معاہدہ کیس میں پاکستان کی بڑی کامیابی، عالمی عدالت کا بھارت کو اہم حکم

عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کو پاکستانی دریاؤں پر قائم اپنے پن بجلی منصوبوں سے

Read More

TECHNOLOGY

ملک بھر کی جامعات میں اے آئی کورس لازمی قرار

اعلی تعلیمی کمیشن آف پاکستان (ایچ ای سی) نے ملک بھر کی تمام سرکاری و

Read More

پابندی شدہ مواد تک رسائی کے لیے امریکا کا نیا ’وی پی این‘ منصوبہ

امریکی محکمہ خارجہ ایک نئے آن لائن پورٹل پر کام کر رہا ہے جس کے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.