خفیہ اہلکار پر گولی کس نے چلائی؟ قانونی دستاویزات نے وائٹ ہاؤس ڈنر فائرنگ کو مشکوک بنا دیا

امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر مبینہ حملے کے دوران سیکرٹ سروس اہلکار کے زخمی ہونے سے متعلق نئی عدالتی دستاویز نے اہم سوالات کھڑے کردیے ہیں، حکام کے ابتدائی بیانات اور تازہ شواہد میں واضح تضاد سامنے آیا ہے۔

امریکی عدالت میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز میں انکشاف ہوا ہے کہ وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ڈنر کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں سیکرٹ سروس اہلکار کو لگنے والی گولی کے حوالے سے صورتحال واضح نہیں ہے۔

عدالتی دستاویز کے مطابق 31 سالہ ملزم کول ٹوماس ایلن نے ہفتے کی رات واشنگٹن کے واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں اس مقام کی جانب شاٹ گن سے فائر کیا جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ، حکومتی عہدیداران اور صحافی موجود تھے۔

تاہم پراسیکیوٹرز کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ کسی اہلکار کو گولی لگی، حالانکہ ابتدائی بیانات میں کہا گیا تھا کہ ایک سیکرٹ سروس اہلکار کے سینے پر گولی لگی تھی جسے اس کی باڈی آرمر نے بچا لیا۔

دستاویز میں صرف یہ بتایا گیا کہ ایک قانون نافذ کرنے والے اہلکار نے ملزم پر پانچ فائر کیے، جبکہ ملزم کے شاٹ گن سے ایک خالی کارتوس بھی برآمد ہوا۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ سیکرٹ سروس اہلکار کو لگنے والی گولی کس نے چلائی۔

یہ مؤقف اس سے پہلے کے بیانات سے متصادم ہے، جن میں قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش اور واشنگٹن کی امریکی اٹارنی جینین پیرو نے کہا تھا کہ ملزم کی فائرنگ سے اہلکار زخمی ہوا۔

مزید برآں، واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے حاصل کی گئی سیکیورٹی فوٹیج کے جائزے میں بھی یہ اشارہ نہیں ملا کہ ملزم نے کوئی فائر کیا ہو، جبکہ ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ایک اہلکار نے ملزم پر کئی گولیاں چلائیں۔

قبل ازیں پیر کو جمع کرائی گئی ایک اور حلف نامے میں تصدیق کی گئی تھی کہ ایک سیکرٹ سروس اہلکار ”وی جی“ کو ایک گولی لگی، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ فائر کس جانب سے کیا گیا۔

حلف نامے کے مطابق مذکورہ اہلکار نے ملزم پر متعدد فائر کیے، تاہم ملزم زخمی نہیں ہوا اور زمین پر گر پڑا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق حملے سے قبل ملزم نے ایک تحریر بھی لکھی تھی جس میں اس نے کم جانی نقصان کے لیے مخصوص قسم کی گولیاں استعمال کرنے کا ذکر کیا۔

واقعے کے بعد حکام کی جانب سے دیے گئے بیانات اور تازہ عدالتی ریکارڈ میں تضادات کے باعث تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا ہے، جبکہ ملزم پر صدر کو قتل کرنے کی کوشش سمیت دیگر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

سانحہ گُل پلازہ: 61 ہلاکتوں کی تصدیق، 88 افراد تاحال لاپتا، فائنل سرچ آپریشن کا حکم

کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گُل پلازہ میں پیش آنے والے

Read More

گُل پلازا میں آتشزدگی کے بعد ملحقہ رمپا پلازا غیر محفوظ قرار

کراچی کے گل پلازا میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد اس

Read More

TECHNOLOGY

دنیا کے 40 فیصد اینڈرائیڈ فونز نئے سائبر حملوں کے خطرے سے دوچار

گوگل نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تقریباً 40 فیصد

Read More

یوٹیوب نے فری صارفین کے لیے بیک گراؤنڈ ویڈیو چلانے کا راستہ بند کر دیا

اگر آپ موبائل پر براؤزر کو منی مائز کر کے یا اسکرین لاک کر کے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.