دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپ واٹس ایپ ایک ایسے انقلابی فیچر پر کام کر رہی ہے جو صارفین کے چیٹ بیک اپ کے طریقہ کار کو مکمل طور پر بدل دے گا۔
ویبیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق میٹا کی زیرِ ملکیت کمپنی اب تھرڈ پارٹی سروسز (گوگل ڈرائیو اور آئی کلاؤڈ) پر انحصار ختم کرتے ہوئے اپنا ‘ان ہاؤس’ انکرپٹڈ کلاؤڈ اسٹوریج سسٹم متعارف کروانے کی تیاری کر رہی ہے۔
واٹس ایپ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ‘ویب بیٹا انفو کے مطابقؤ نئے سسٹم کے تحت اینڈرائیڈ صارفین کو 2 آپشنز دیے جائیں گے، وہ یا تو اپنا ڈیٹا گوگل ڈرائیو پر رکھ سکیں گے یا واٹس ایپ کے اپنے کلاؤڈ اسٹوریج کا انتخاب کرسکیں گے۔
واٹس ایپ ابتدائی طور پر صارفین کو 2 جی بی مفت جگہ فراہم کرے گا۔ اس سسٹم کی خاص بات یہ ہے کہ واٹس ایپ کے سرورز پر محفوظ ہونے والا ڈیٹا لازمی طور پر ‘اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ’ ہوگا، جسے صارف پاس ورڈ، پاس کی یا 64 ہندسوں کی مخصوص کی کے ذریعے محفوظ بنا سکے گا۔
ایسے صارفین جن کی چیٹ ہسٹری بہت زیادہ ہے، ان کے لیے واٹس ایپ ایک انتہائی سستا پیڈ پلان لانے پر بھی غور کر رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ محض 0.99 ڈالر (تقریباً 280 روپے) ماہانہ کے عوض 500 جی بی تک اسٹوریج فراہم کی جاسکتی ہے، جو کہ دیگر کلاؤڈ سروسز کے مقابلے میں کافی سستی ثابت ہوگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام واٹس ایپ کی جانب سے صارف کی پرائیویسی اور ڈیٹا سیکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کی کڑی ہے۔
ابھی یہ فیچر آزمائشی مراحل میں ہے اور کمپنی نے اس کے باقاعدہ اجرا کی کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا، تاہم توقع ہے کہ اسے جلد ہی عالمی سطح پر تمام صارفین کے لیے پیش کر دیا جائے گا۔





































