حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک دفعہ پھر بڑا اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد پیٹرولیم مصنوعات فی لیٹر 26 روپے 77 پیسے مہنگی ہوگئی ہیں جب کہ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
جمعے کے روز حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافہ کا اعلان کردیا ہے، جس کے تحت پیٹرول 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا گیا ہے جب کہ ڈیزل کی قیمت میں بھی 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
اس اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 393 روپے 35 پیسے فی لیٹر جب کہ ڈیزل کی نئی قیمت 380 روپے 19 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی ہے۔
وزارت پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے (25 اپریل) سے ہوگا، جو آئندہ ہفتے تک برقرار رہیں گی۔
دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اپنے بیان میں کہا کہ علاقائی کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر سے اضافہ ہو رہا ہے، تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دباؤ اور عالمی شراکت داروں سے معاہدوں کی وجہ سے حکومت کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ منتقل کرنے کے لیے اقدامات کرنے پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان حالات کے پیش نظر آئندہ ہفتے کے لیے ڈیزل کی قمیت میں 26.77 روپے اور پیٹرول کی قیمت میں 26.77 روپے کا اضافہ کیا جارہا ہے، جس قدر ممکن ہوا، حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کو برداشت کیا۔
وزیرِ پیٹرولیم نے مزید بتایا کہ وفاقی حکومت سمیت تمام صوبائی حکومتوں نے عوام کو تاریخی ریلیف پیکیج دیا، دعاگو ہیں کہ جلد علاقائی امن کے حصول میں پیش رفت ہو اور عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے 18 اپریل کو پاکستان میں لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 70 روپے 04 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی تھی، جس کے بعد نئی قیمت 299 روپے 32 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی۔ اسی طرح جیٹ فیول کی قیمت میں بھی 23 روپے 59 پیسے فی لیٹر کمی کے بعد نئی قیمت 471 روپے 01 پیسہ فی لیٹر مقرر ہوگئی تھی۔
اس سے قبل 17 اپریل کو وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے 12 پیسے فی لیٹر کمی کی منظوری دی تھی، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 353 روپے 43 پیسے مقرر کردی گئی تھی جب کہ پیٹرول کی قیمت برقرار رکھی تھی۔
حکومت کے اس فیصلے کے بعد عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جب کہ ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافے کا امکان ہے۔




































