امریکی خلائی ادارہ ناسا اور یو ایس جیولوجیکل سروے نے ایک دلچسپ ڈیجیٹل ٹول متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے صارفین سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے اپنا نام زمین کی مختلف قدرتی ساختوں میں لکھا ہوا دیکھ سکتے ہیں۔
یہ منصوبہ سنہ 1972 سے جاری زمین کی مسلسل سیٹلائٹ فوٹوگرافی کے ڈیٹا پر مبنی ہے جو زمین کے خشکی والے حصوں کی سب سے طویل اور مسلسل ریکارڈ شدہ فضائی تصویری تاریخ سمجھی جاتی ہے۔
اس ٹول کے استعمال کے لیے صارف کو ’یور نیم اِن لینڈ سیٹ‘ ویب سائٹ پر جاکر اپنا نام لکھنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد سسٹم ڈیٹا بیس میں موجود ہزاروں سیٹلائٹ تصاویر میں سے ایسے قدرتی مناظر تلاش کرتا ہے جو حروف کی شکل سے مشابہ ہوں جیسے دریاؤں کے خم، پہاڑی کنارے، صحرا کی لکیریں یا ساحلی خطے۔

ہر حرف کے ساتھ ایک مخصوص مقام منسلک ہوتا ہے اور جب صارف اس پر کلک کرتا ہے تو اسے اس جگہ کی سیٹلائٹ تصویر، مقام اور تصویر لینے کی تاریخ بھی دکھائی جاتی ہے۔
یہ پورا نظام زمین کے وسیع ڈیٹا آرکائیو کی وجہ سے ممکن ہوا ہے جس میں نصف صدی کے دوران مختلف خطوں کی لاکھوں تصاویر شامل ہیں۔
اگرچہ اس ڈیٹا کا اصل مقصد ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے جنگلات کی کٹائی، شہری پھیلاؤ اور ساحلی تبدیلیوں کی نگرانی ہے لیکن اب اسے تفریحی اور تعلیمی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا رہ
ماہرین کے مطابق یہ ٹول اس بات کی ایک دلچسپ مثال ہے کہ کس طرح سائنسی ڈیٹا کو عام لوگوں کے لیے زیادہ قابل فہم اور انٹرایکٹو بنایا جا سکتا ہے۔
الغرض یہ ایک تفریحی اور دلچسپ آن لائن ٹول ہے جو ناسا کے سیٹلائٹ ڈیٹا کو استعمال کرتا ہے۔ اس میں صارف اپنا نام لکھتا ہے تو سسٹم زمین کی ہزاروں سیٹلائٹ تصاویر میں ایسے قدرتی مناظر تلاش کرتا ہے جو ہر حرف کی شکل سے مشابہ ہوں جیسے دریا کے خم، پہاڑی لکیریں یا ساحلی کنارے۔ پھر یہ تصاویر ملا کر ایک ایسا منظر بناتا ہے جس میں لگتا ہے کہ زمین کی سطح پر قدرتی طور پر آپ کا نام لکھا ہوا ہے جسے صارف نقشے پر دیکھ بھی سکتا ہے اور اس کی لوکیشن اور تاریخ بھی جان سکتا ہے۔




































