ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور محاصرے کے ذریعے مذاکراتی عمل کو دباؤ میں لا کر ایران کو ہتھیار ڈالن پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اپنے سوشل میڈیا بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا مذاکراتی میز کو اپنے مفاد کے مطابق تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسے ایک ایسے پلیٹ فارم میں بدلنا چاہتا ہے جہاں ایران پر دباؤ ڈال کر اسے یکطرفہ شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ تہران ایسے کسی بھی مذاکرات کو قبول نہیں کرتا جو دھمکیوں اور دباؤ کے سائے میں کیے جائیں۔ ان کے مطابق ایران پر عائد دباؤ اور جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی دراصل سفارتی عمل کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
قالیباف نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران ایران نے میدانِ جنگ میں اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کیا ہے اور نئے کارڈز سامنے لانے کے لیے مکمل تیاری کر رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور نہ ہی ایسے مذاکرات کو قبول کیا جائے گا جو یکطرفہ دباؤ پر مبنی ہوں۔


































