روٹ کینال کے بعد غفلت نہ برتیں، یہ ٹیسٹ لازمی کروائیں

دانتوں کو جڑ سے نکالنے کے بجائے انہیں بچانے کے لیے ’روٹ کینال ٹریٹمنٹ‘ (آر سی ٹی) ایک مقبول ٹریٹمنٹ ہے، لیکن طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کام صرف فلنگ یا کیپ لگوانے پر ختم نہیں ہو جاتا۔

روٹ کینال کے ذریعے خراب دانت کو محفوظ رکھا جاتا ہے۔ اس عمل میں خراب دانت کی جڑوں کو اچھی طرح صاف کر کے جراثیم ختم کیے جاتے ہیں اور پھر ایک خاص فلنگ کی جاتی ہے۔

بعد ازاں دانت کو مضبوط بنانے کے لیے اس پر کیپ بھی لگا دی جاتی ہے، جس سے دانت دوبارہ عام استعمال کے قابل ہو جاتا ہے۔

روٹ کینال کروانے کے بعد اکثر لوگ علاج مکمل سمجھ کر لاپرواہی برتنے لگتے ہیں، جو کہ درست نہیں۔

ڈینٹسٹ کے مطابق، روٹ کینال کے بعد دانتوں کی طویل مدتی صحت کو یقینی بنانے اور انفیکشن سے بچاو کے لیے کچھ مخصوص ٹیسٹ کروانا انتہائی ضروری ہیں۔

سی بی سی ٹی اسکین

عام طور پر روٹ کینال کے بعد اگر درد نہ ہو تو مریض اسے مکمل سمجھ لیتے ہیں، لیکن ڈاکٹرز کے مطابق اگلے 3 سے 5 سال کے اندر ایک بار سی بی سی ٹی اسکین لازمی کروانا چاہیے۔

اس اسکین کے ذریعے دانتوں کی جڑوں میں چھپی کسی بھی انفیکشن یا خرابی کو بروقت پکڑا جا سکتا ہے جو عام ایکسرے میں نظر نہیں آتے اس سے مستقبل کے بڑے مسائل سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔ اگر روٹ کینال کامیاب ہوا ہو تو اسکین صاف ظاہر ہوگا۔

سی آر پی ٹیسٹ

اسی طرح دانتوں کی جڑوں میں چھپی ہوئی سوزش کا پتہ لگانے کے لیے سی آر پی ٹیسٹ کروانا بھی مفید ہے۔ یہ ایک سادہ خون کا ٹیسٹ ہے اور اگر اس کا رزلٹ کم آئے تو اس کا مطلب ہے کہ دانتوں کی جڑوں میں کوئی سوجن یا انفیکشن موجود نہیں ہے۔

جسمانی علامات پر نظر

جدید طبی تحقیق کے مطابق، اگر روٹ کینال والے دانت میں انفیکشن ہو تو اس کا اثر پورے جسم پر پڑ سکتا ہے۔ اگر آپ کو مسلسل تھکن، ذہنی دھندلاہٹ یا یادداشت میں کمی محسوس ہو رہی ہو تو اپنے دانتوں کا معائنہ فوری کروائیں، کیونکہ دانت کا انفیکشن اعصابی نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔

ڈاکٹرز کے مطابق اگر آپ کا اسکین صاف ہو، سی آر پی لیول نارمل ہے اور اور دانت صحت مند ہوں،روٹ کینال نکالنے کی غلطی ہرگز نہ کریں۔ ایک کامیاب روٹ کینال 10 سال سے زائد عرصہ بھی نکال سکتا ہے، بشرطیکہ اس کی صفائی کا خیال رکھا جائے۔

مستند طبی مشورے

فلورائیڈ ٹوتھ پیسٹ: روٹ کینال والے دانت کے گرد کیڑا لگنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، اس لیے فلورائیڈ والے ٹوتھ پیسٹ سے دن میں دو بار برش کریں۔

سخت غذا سے پرہیز: روٹ کینال والے دانت پر فوری طور پر بہت سخت چیزیں (جیسے اخروٹ یا برف) چبانے سے گریز کریں کیونکہ کیپ کے ٹوٹنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

ڈینٹل فلاس: دانتوں کے درمیان صفائی کے لیے فلاس کا استعمال لازمی کریں تاکہ جڑوں کے پاس بیکٹیریا جمع نہ ہوں۔

نوٹ: دانتوں کی کسی بھی معمولی تکلیف یا مسوڑھوں سے خون آنے کی صورت میں خود علاج نہ کریں، مستند ڈینٹسٹ سے رجوع کریں۔

Share On Social Media

KARACHI

بیوٹی سیکٹر میں ایستھیٹک سیفٹی کے لیے فوری ریگولیٹری اقدامات ناگزیر – زہرہ زاہد

ایف پی سی سی آئی کی سینٹرل اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ویمن اسٹائل، بیوٹی اینڈ اسکن

Read More

جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ مسترد، میر رضا کے اہل خانہ کا عدالت سے رجوع کا اعلان

کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے سندھ حکومت

Read More

TECHNOLOGY

لوگ جدید ٹیکنالوجی چھوڑ کر پرانے سسٹمز کی طرف کیوں لوٹ رہے ہیں؟

جب بھی ٹیکنالوجی کی بات ہوتی ہے تو عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے

Read More

چینی روبوٹس نے دوڑ کاعالمی ریکارڈ تو توڑ دیا، لیکن اصل امتحان اب شروع ہوگا!

بیجنگ میں شروع ہونے والے ورلڈ ہیومنائڈ روبوٹ گیمز میں انسان نما روبوٹس نے تیز

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.