امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملے کے بعد مشرق وسطیٰ شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مزید شدت سے حملوں کی دھمکی دی ہے، تاہم ایران نے جھکنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب مذاکرات نہیں کرےگا۔
اس جنگ کے دوران اب تک 1300 سے زیادہ ایرانی جاں بحق ہوگئے ہیں جن میں ایک اسکول پر مبینہ امریکی میزائل حملے میں شہید ہونے والی 170 بچیاں اور اسٹاف بھی شامل ہیں۔ ایران نے خطے میں موجود امریکی بیسز پر جوابی حملوں کا اعلان کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک پر بھی فضائی اور ڈرون حملے کیے ہیں جس کے بعد اس جنگ کا دائرہ کار خطے میں وسیع ہوگیا ہے۔
پوپ لیو کا مشرق وسطیٰ میں ہلاکتوں پر اظہار افسوس
پوپ لیو نے کہا کہ وہ خطے کی صورتِ حال کو شدید تشویش کے ساتھ دیکھ رہے ہیں اور بمباری کے نتیجے میں ہونے والی تمام ہلاکتوں پر ‘گہرا رنج’ محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جاں بحق ہونے والوں میں ‘بہت سے معصوم افراد اور متعدد بچے’ بھی شامل ہیں۔ پوپ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف افراد بھی شامل تھے، جن میں مارونی پادری فادر پیئر ایل راہی بھی شامل ہیں جو پیر کے روز قلعیا، لبنان میں ایک اسرائیلی حملے میں مارے گئے۔
پوپ لیو نے دعا کی کہ خطے میں جاری تمام دشمنیاں جلد از جلد ختم ہوں اور امن بحال ہو۔
امریکا کا آبنائے ہرمز میں 16 ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
امریکا کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب ایران کی بارودی سرنگیں بچھانے والی 16 کشتیوں کو تباہ کر دیا ہے، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے میں بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں تو انہیں فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
بیان کے مطابق یہ کارروائی خطے میں سمندری گزرگاہوں کے تحفظ اور بین الاقوامی جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے کی گئی۔
ایران سے بات چیت کرسکتا ہوں لیکن یہ شرائط پر منحصر ہوگا۔ صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہو سکتے ہیں تاہم یہ فیصلہ مذاکرات کی شرائط پر منحصر ہوگا۔
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ تہران مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر مناسب شرائط سامنے آئیں تو ایران کے ساتھ بات چیت کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
امریکا نے 140 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران جانی نقصانات سے متعلق رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ قریباً 140 امریکی فوجی 10 روزہ لڑائی کے دوران زخمی ہوئے۔
دوسری جانب خبر ایجنسی کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 150 تک پہنچ چکی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اب تک امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو سیکیورٹی فراہم نہیں کی۔
ادھر امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹس میں ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں نصب کرنے کی تیاری کررہا ہے۔
توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا خطرناک ہوگا، قطر کا ایران کو انتباہ
قطر کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا اور ایرانی جارحیت سے نمٹنا اس کی اولین ترجیح ہے۔
قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے اپنے بیان میں کہا کہ قطر اب بھی سفارتکاری اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے تاہم کسی بھی حملے کی صورت میں مناسب اور مؤثر ردعمل دیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے قطر کے وزیرِ اعظم اور ایران کے وزیرِ خارجہ کے درمیان اب تک صرف ایک مرتبہ رابطہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کے ذرائع مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے تاہم قطر اس وقت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
ماجد الانصاری کے مطابق قطر نے اہم تنصیبات کو ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات بھی کر لیے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا انتہائی خطرناک ہوگا اور اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
لبنان: بیروت میں ہوٹل پر اسرائیلی حملہ، 4 ایرانی سفارتکار شہید
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک ہوٹل پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں ایران کے 4 سفارتکار شہید ہو گئے۔
اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر نے منگل کو بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے بیروت میں کیے گئے حملے میں ایرانی سفارت خانے کے چار اہلکار جان سے گئے۔
ایرانی سفیر نے اس حوالے سے اقوامِ متحدہ کے سیکربٹری جنرل اور سلامتی کونسل و جنرل اسمبلی کے صدور کو ایک ہنگامی خط بھی ارسال کیا ہے۔
خط میں بتایا گیا کہ 8 مارچ کو اسرائیل نے بیروت کے ایک ہوٹل کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایرانی سفارتی عملے کے چار ارکان شہید ہو گئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق شہدا میں سفارت خانے کے سیکنڈ اور تھرڈ سیکرٹری، ملٹری اتاشی اور ملٹری مشن آفیسر شامل ہیں۔
دوسری جانب لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق وسطی بیروت میں واقع رمادا ہوٹل کے ایک اپارٹمنٹ پر ہونے والے اس حملے میں مجموعی طور پر چار افراد جاں بحق جبکہ دس زخمی ہوئے۔
آبنائے ہرمز جنگ بھڑکانے والوں کے لیے شکست اور تکلیف کی گزرگاہ ثابت ہوگی، علی لاریجانی
ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز یا تو سب کے لیے امن اور خوشحالی کی گزرگاہ بنے گی، یا پھر جنگ بھڑکانے والوں کے لیے شکست اور تکلیف کی گزرگاہ ثابت ہوگی۔


































