پاکستان میں 9 سے 15 فروری 2026 تک منعقد ہونے والے انڈس اے آئی ویک نے ملک کی مصنوعی ذہانت کی حقیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا، جہاں مقامی ایجادات، سافٹ ویئر اور تکنیکی حل پیش کیے گئے۔ ماہرین نے اسے کامیاب اور حوصلہ افزا قرار دیا، جس میں 90 سے زائد تقریبات ہوئیں اور اسلام آباد اعلامیہ جاری کیا گیا جو خودمختار اے آئی پالیسی کی بنیاد بنا۔
دوسری جانب بھارت کے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں سنگین تنازعات سامنے آئے، جہاں گلگوٹیاس یونیورسٹی نے چینی روبوٹ یونٹری گو ٹو کو اپنی ایجاد بتایا، جس پر حکومت نے اسٹال ختم کرنے کا حکم دیا۔ انتظامی ناکامیاں اور جھوٹے دعووں نے بھارت کی اے آئی امنگوں کو شدید دھچکا پہنچایا اور عالمی سطح پر شرمندگی کا باعث بنے۔ ماہرین نے پاکستان کے انڈس اے آئی ویک کو نہ صرف ایک شاندار کامیابی قرار دیا بلکہ اسے حقیقی جدت، شفافیت اور مقامی صلاحیتوں کی عمدہ نمائش بھی کہا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ہفتہ جھوٹے دعووں اور درآمد شدہ ٹیکنالوجی کو اپنی بتانے کی بجائے اصل تحقیق اور نوجوانوں کی تخلیقی قوت پر مبنی تھا۔اس سے پاکستان کی مصنوعی ذہانت کی راہ میں ایک مثبت اور قابلِ اعتماد قدم ثابت ہوا ہے۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سابق چیئرمین پاشا محمد زوہیب خان کے مطابق حالیہ صنعتی معلوماتی ہفتہ پاکستان کے لیے نہایت اہم اور حوصلہ افزا ثابت ہوا۔ اس موقع پر پاکستان نے اپنے مقامی تیار کردہ نظام، سافٹ ویئر اور تکنیکی حل نمایاں طور پر پیش کیے، جس سے یہ واضح ہوا کہ ملک اب ٹیکنالوجی کے میدان میں خود انحصاری کی طرف بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے اپنی کامیابیوں کو حقیقت پر مبنی انداز میں پیش کیا اور کسی دوسری ریاست کی چیز کو اپنی بنا کر دکھانے جیسا رویہ اختیار نہیں کیا۔
انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پاکستان کی پیش رفت نمایاں ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں اسلام آباد اعلامیہ کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا، کیونکہ اس میں عالمی سطح کے ممتاز ماہرین اور اہم شخصیات شریک ہوئیں جن کی مصنوعی ذہانت میں نمایاں خدمات ہیں۔ اس اعلامیہ کو ملک میں مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے ایک مضبوط بنیاد سمجھا جا رہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک بھر میں 90 سے زائد تقریبات منعقد ہوئیں جن کا مقصد نوجوان تکنیکی ماہرین، نئی کمپنیوں اور مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والے منصوبوں کو سامنے لانا تھا۔ یہ سرگرمیاں صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی نمائندگی ہوئی، جن میں لندن میں ایک تقریب اور چین میں ایک آن لائن نشست شامل تھی۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس پورے ہفتے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ نوجوان صلاحیتوں، مقامی کمپنیوں اور جدید تکنیکی منصوبوں کو قومی اور عالمی سطح پر متعارف کرانے کا مؤثر موقع ملا، جس سے پاکستان کے معلوماتی شعبے کے روشن مستقبل کی امید مزید مضبوط ہوئی۔
انہوں نے مزید تقابلی طور پر کہا کہ خطے میں بعض دیگر سرگرمیوں، خصوصاً بھارت میں منعقد ہونے والی مصنوعی ذہانت کانفرنسوں کے برعکس پاکستان کی سرگرمیوں کی خاص بات یہ رہی کہ یہاں توجہ عملی مقامی ٹیکنالوجی، نوجوانوں کی شمولیت اور حقیقی منصوبوں کی نمائش پر دی گئی، نہ کہ صرف دعوؤں یا محدود نمائشی تقاریب پر۔ ان کے مطابق پاکستان کا ماڈل زیادہ زمینی حقائق، مقامی صلاحیت اور عملی ترقی پر مبنی دکھائی دیا، جو مستقبل میں زیادہ پائیدار نتائج دے سکتا ہے۔
اے آئی ایکسپرٹ اور ممبر پاشا، احسن مشکور کے مطابق حالیہ معلوماتی و صنعتی سرگرمیوں میں پاکستان کے چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں نے بھرپور شرکت کی۔ ان میں چھوٹی نئی کمپنیوں سے لے کر بڑی ادارہ جاتی تنظیمیں شامل تھیں، جبکہ بعض مقامی دفاعی نوعیت کی ٹیکنالوجی اور نظام بھی پیش کیے گئے جو مکمل طور پر ملک کے اندر تیار کیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اب صرف خدمات فراہم کرنے تک محدود رہنے کا دور ختم ہو رہا ہے۔ پہلے زیادہ تر ادارے بیرونی کمپنیوں کے لیے خدمات انجام دیتے تھے، مگر اب ملک میں خود نئی ٹیکنالوجی، مصنوعات اور حل تیار کیے جا رہے ہیں، جنہیں دنیا بھر میں برآمد بھی کیا جا رہا ہے اور عالمی سطح پر استعمال بھی ہو رہا ہے۔ اس تبدیلی کی بنیاد تحقیق، جدت اور ترقیاتی کام پر رکھی جا رہی ہے، اور جامعات و تحقیقی مراکز کے تعاون سے عملی تحقیق کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
احسن مشکور نے وزیرِ اعظم کی جانب سے اعلان کردہ تربیتی اقدامات کو بھی نہایت اہم قرار دیا، خصوصاً اعلیٰ تعلیم یافتہ ماہرین اور محققین کی مزید تربیت کے منصوبے کو، تاکہ وہ نئی ٹیکنالوجی تخلیق کر سکیں اور ملک کی علمی و تکنیکی صلاحیت میں اضافہ ہو
احسن مشکور کے مطابق پاکستان میں تحقیق پر مبنی نئی کمپنیاں اب مضبوطی سے ابھر رہی ہیں۔ یہ ادارے صرف نقل نہیں کر رہے بلکہ اپنی تحقیق کی بنیاد پر بہتر مصنوعات اور مؤثر حل تیار کر رہے ہیں۔ اس موقع پر نوجوانوں، طلبہ اور طالبات کی بڑی تعداد کی شرکت نے خاص طور پر متاثر کیا۔ ان کے اندر سیکھنے، آگے بڑھنے اور کچھ نیا کرنے کا غیر معمولی جذبہ نظر آیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کا مستقبل تکنیکی لحاظ سے روشن ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مصنوعی ذہانت کے عالمی مرکز کے طور پر ابھرنے کے لیے مسلسل محنت کرنا ہوگی۔ ہمارا ہدف یہ ہے کہ ہم اپنی ٹیکنالوجی خود بنائیں، اسے عالمی سطح تک لے جائیں اور تحقیق و سوچ کی بنیاد پر ترقی کریں، نہ کہ دوسروں کی تخلیقات کو اپنا ظاہر کریں۔ ایسی صنعتی سرگرمیاں ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں جہاں مقامی اور بیرونِ ملک ماہرین ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں، تجربات کا تبادلہ ہوتا ہے اور پاکستان کا مثبت تشخص دنیا تک پہنچتا ہے۔

ان کے مطابق بین الاقوامی ماہرین اور مشیران کی شرکت اور ان کے مثبت تاثرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی معلوماتی صنعت عالمی توجہ حاصل کر رہی ہے اور مستقبل میں مزید تعاون کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
اعزازی صدر عالمی فری لانسرز یونین طفیل احمد خان کے مطابق پاکستان میں منعقد ہونے والا صنعتی معلوماتی ہفتہ ایک نہایت اہم اور خوش آئند قدم تھا۔ انہوں نے اس کامیاب اقدام پر پاکستان کی حکومت، وزارتِ معلوماتی ٹیکنالوجی اور اس منصوبے میں شامل تمام ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی برسوں میں اس پیمانے کی سرگرمی کم دیکھنے میں آئی، اس لیے ایسے اقدامات صرف ایک ہفتے تک محدود نہیں رہنے چاہییں بلکہ انہیں مسلسل بنیادوں پر جاری رہنا چاہیے تاکہ ملک میں ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت کا فروغ مستقل رفتار سے جاری رہے۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں یہ تاثر تھا کہ یہ صرف دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والی ایک محدود نوعیت کی کانفرنس ہوگی جس میں چند مقررین شرکت کریں گے، مگر عملی طور پر یہ ایک ملک گیر سرگرمی ثابت ہوئی۔ ملک کے مختلف شہروں، اداروں اور شعبوں نے اس میں بھرپور حصہ لیا، آگاہی نشستیں منعقد ہوئیں، مباحثے ہوئے، نمائشیں لگیں اور نوجوانوں کو سیکھنے کے مواقع فراہم کیے گئے۔
طفیل احمد خان کے مطابق وہ خود کراچی میں موجود تھے جہاں اختتامی دن مصنوعی ذہانت کے موضوع پر ایک نشست بھی ہوئی۔ ان کے بقول متعدد اداروں اور شراکت داروں نے اس ہفتے کو نہ صرف منایا بلکہ اسے عوامی آگاہی، تعلیم اور عملی اظہار کا مؤثر ذریعہ بنایا، جس سے یہ واضح ہوا کہ پاکستان میں تکنیکی صلاحیت اور ترقی کی مضبوط بنیاد موجود ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایسے اقدامات سے دنیا کو مثبت پیغام جاتا ہے کہ پاکستان تحقیق، صلاحیت اور عملی کام کے ذریعے ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھ رہا ہے، اور ملک کو اپنی مقامی قابلیت پر اعتماد کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی شناخت مزید مضبوط کرنی چاہیے۔
زنیرہ رفیع


































