انسان 50 سال تک چاند پر دوبارہ کیوں نہ جا سکا؟

چاند پر انسانی قدم پڑے اب نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے۔ آخری بار 14 دسمبر 1972 کو اپالو 17 کے کمانڈر جین سرنین نے چاند کی سطح پر قدم رکھا تھا۔ روانگی سے قبل ان کے الوداعی الفاظ امن اور امید کے پیغام پر مبنی تھے، مگر اس وقت شاید کسی کو یہ گمان نہیں تھا کہ یہ الفاظ دہائیوں تک چاند پر کسی انسان کے آخری الفاظ ثابت ہوں گے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق چاند سے رخصت ہوتے وقت جین سرنن نے چند یادگار الفاظ کہے تھے، ”ہم جیسے آئے تھے ویسے ہی جا رہے ہیں، اور خدا کرے کہ ہم دوبارہ لوٹیں، امن اور پوری انسانیت کی امید کے ساتھ۔“۔

یہ 14 دسمبر 1972 کا دن تھا، اور انہیں اندازہ تھا کہ ان کے قدموں کے نشان کچھ عرصے تک چاند کی مٹی پر آخری نشان ہونگے جب تک کوئی دوبارہ چاند کی سرزمین پر قدم نہ رکھے، کیونکہ اپالو کے اگلے مشنز پہلے ہی منسوخ ہو چکے تھے۔ مگر شاید وہ یہ نہ جانتے تھے کہ پچاس سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود، یہ الفاظ چاند پر کسی انسان کے آخری الفاظ بن جائیں گے۔

اب ناسا ایک نئے مشن آرٹیمس II کی تیاری کر رہا ہے، جسے جلد لانچ کیا جا سکتا ہے۔ یہ مشن چاند پر اترے گا نہیں بلکہ اس کے گرد چکر لگائے گا، لیکن پھر بھی یہ اپالو 17 کے بعد پہلی بار ہوگا کہ انسان دوبارہ چاند کے قریب جائیں گے۔ اس سوال نے سب کو سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ آخر اتنا طویل وقفہ کیوں آیا؟

ماہرین کے مطابق انسانوں کی چاند پر واپسی میں اس طویل تاخیر کی سب سے بڑی وجہ سیاسی عزم کی کمی ہے۔ چاند پر مشن بھیجنا ایک انتہائی پیچیدہ اور مہنگا عمل ہے جس کے لیے مسلسل مالی وسائل اور قومی سطح پر طویل مدتی ترجیحات کی ضرورت ہوتی ہے۔

سمتھسونین میوزیم کی ماہر ٹیزل میوئر ہارمنی کا کہنا ہے کہ اپالو پروگرام کے بعد کئی بار چاند پر جانے کی کوششیں کی گئیں، لیکن صدارتی انتظامیہ (پریزیڈینٹل ایڈمنسٹڑیشن) کی تبدیلی کے ساتھ ہی خلا سے متعلق ترجیحات بھی بدلتی رہیں۔

ناسا کے سابق چیف ٹیکنالوجسٹ لیس جانسن اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہر چار سے آٹھ سال بعد ناسا کے مقاصد کو یکسر تبدیل کر دیا جاتا رہا ہے۔

ماضی میں صدر جارج ایچ ڈبلیو بش نے چاند پر واپسی کا رخ کیا، تو ان کے بعد آنے والے صدر کلنٹن نے توجہ خلائی اسٹیشن پر مرکوز کر دی۔ اسی طرح جارج ڈبلیو بش کا ’کانسٹیلیشن‘ پروجیکٹ باراک اوباما کے دور میں تبدیل ہوا، اور پھر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ چاند کو ہدف بنایا۔ تاہم، صدر جو بائیڈن نے اس تسلسل کو برقرار رکھا، جس کی وجہ سے آرٹیمس پروگرام کو آگے بڑھنے کا موقع ملا۔

سیاسی رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ چاند کا سفر ایک بڑا تکنیکی چیلنج بھی ہے۔ زمین سے چاند کا فاصلہ تقریباً 4 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ ہے اور اب تک چاند پر لینڈنگ کی نصف سے زیادہ کوششیں ناکام رہی ہیں۔

اب ناسا ’آرٹیمس II‘ مشن کی تیاری کر رہا ہے، جس پر دو دہائیوں کے دوران 50 ارب ڈالر سے زیادہ کی لاگت آئی ہے۔ اگرچہ یہ مشن صرف چاند کے قریب سے گزرے گا اور لینڈنگ نہیں کرے گا، لیکن یہ اپالو 17 کے بعد انسانوں کا چاند کی جانب پہلا بڑا قدم ہوگا۔ اس وقت امریکہ اور چین کے درمیان نئی خلائی دوڑ بھی اس مشن کی اہمیت میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

پاکستان نے ایران جنگ کے اقتصادی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی

پاکستان نے ایران میں جاری کشیدگی کے پیشِ نظر عالمی توانائی کی مارکیٹس اور سپلائی

Read More

سانحہ گل پلازہ میں کے ایم سی کی کوئی غفلت نہیں، میونسپل کمشنر

کراچی(کورٹ رپورٹر) سانحہ گل پلازہ جوڈیشل کمیشن میں میونسپل کمشنر کے ایم سی نے ذمہ

Read More

TECHNOLOGY

انسانوں کی ضرورت ختم، کلاڈ اے آئی خود فیصلے کرنے لگا

مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک انقلابی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس نے مشینوں

Read More

مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب، چین کی سیمی کنڈکٹر صنعت میں غیر معمولی تیزی

مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی طلب نے چین کی سیمی کنڈکٹر صنعت

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.