آئی ایم ایف وفد کی عدالتی کمیشن اور سپریم کورٹ کے حکام سے ملاقات متوقع

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد جو اس وقت گورننس اور کرپشن ڈائیگنوسٹک اسسمنٹ (جی سی ڈی اے) کر رہا ہے، آج (11 فروری) کو عدالتی کمیشن اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکام سے ملاقات کرے گا۔ خیال رہے کہ نمائندہ آئی ایم ایف نے کسی بھی جائزہ مشن کے پاکستان آنے کی تردید کی ہے۔

آئی ایم ایف کے نمائندے ماہر بینیجی نے پاکستان میں موجود آئی ایم ایف ٹیم کے حوالے سے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ ٹیم کا دورہ صرف تکنیکی معاملات کے جائزے کے لیے ہے اور اسے آئی ایم ایف کے جائزہ مشن سے منسلک نہ کیا جائے۔

تاہم، ذرائع نے بتایا کہ پیر کے روز آئی ایم ایف وفد نے فیڈرل لینڈ کمیشن، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ، نیشنل اینٹی منی لانڈرنگ اینڈ کاؤنٹرنگ فنانسنگ آف ٹیررزم اتھارٹی (AML/CFT) اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا جائزہ لیا۔ اس دوران وفد کو کرپشن کے خلاف اقدامات اور مالی جرائم کی روک تھام کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، جبکہ مشکوک مالی لین دین اور منی لانڈرنگ کے سدباب سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔

آئی ایم ایف وفد نے حکومت میں کرپشن کے خدشات پر تحقیقات کیں اور زمینوں کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن پر زور دیا۔ اس کے علاوہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنے کے موثر اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے وفد کو ڈیجیٹلائزیشن، اسمگلنگ کی روک تھام اور ٹیکس چوری کے خلاف اقدامات پر بھی تفصیل سے آگاہ کیا۔ وفد نے فیڈرل لینڈ کمیشن اور فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے ساتھ ساتھ کابینہ ڈویژن، وزارت خزانہ اور وزارت قانون کے حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔

اور اب آج یا کل آئی ایم ایف کا وفد عدالتی کمیشن اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکام سے ملاقات کرے گا، جہاں انہیں ججوں کی تقرری کے طریقہ کار اور آئینی و قانونی امور پر بریفنگ دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق تین رکنی وفد کے شیڈول میں وزارت موسمیاتی تبدیلی، وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور ایف بی آر کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں شامل ہیں۔

آئی ایم ایف وفد چھ اہم حکومتی شعبوں میں کرپشن کے خطرات کا جائزہ لے گا، جن میں مالیاتی حکمرانی، مرکزی بینک کی گورننس و آپریشنز، مارکیٹ ریگولیشن اور قانون کی حکمرانی شامل ہیں۔ یہ وفد 14 فروری تک پاکستان میں موجود رہے گا۔

جی سی ڈی اے رپورٹ میں کرپشن کے خطرات سے نمٹنے اور گورننس و شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے سفارشات دی جائیں گی، جو حکومت کو شفافیت کے فروغ، اداروں کی صلاحیت بڑھانے اور پائیدار اقتصادی ترقی کے حصول میں مدد دے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں