سپریم کورٹ میں 8 نئے ججز کی تعیناتی کے لیے آج جوڈیشل کمیشن کے متوقع اجلاس اور 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وکلا سراپا احتجاج اور کئی مقامات پر پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں جبکہ کئی وکلا کو پولیس نے گرفتار بھی کرلیا۔
پیر کو جوڈیشل کمیشن کے اجلاس سے قبل ہی اسلام آباد میں سیکیورٹی کے انتظامات سخت کرلیے گئے تھے اور وکلا کے متوقع ردعمل کے پیش نظر شاہراہ دستور سمیت سپریم کورٹ کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات تھے۔
26ویں آئینی ترمیم کیخلاف ملک بھر کے وکلا کی آج احتجاج کی کال کے پس منظر میں صبح سے سپریم کورٹ کے احاطے میں بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کے باہر سخت سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ پولیس افسران موقع پر موجود ہیں۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق اور ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد محمد شعیب خان لا اینڈ آرڈر ڈیوٹی کے دوران فیلڈ میں موجود ہیں، اسلام آباد پولیس شہریوں کی جان و مال اور نجی وسرکاری املاک کے تحفظ کے لئے تمام تر ضروری اقدامات بروئے کار لا رہی ہے۔
ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق اور ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد محمد شعیب خان لاء اینڈ آرڈر ڈیوٹی کے دوران فیلڈ میں موجو د ہیں، اسلام آباد پولیس شہریوں کی جان و مال اور نجی وسرکاری املاک کے تحفظ کے لئے تمام تر ضروری اقدامات بروئے کار لا رہی ہے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ کی پارکنگ کے بیریئر کو بھی بند کردیا گیا ہے مگر شاہراہ دستور پر واقع سپریم کورٹ جانے کے لیے صرف مارگلہ روڈ کو کھلا رکھا گیا ہے، شاہراہ دستور کی دوسری سمت نو تعمیر شدہ جناح انڈر پاس کو کنٹینرز لگا کر بند کردیا گیا ہے۔