امریکی دفاعی وزارت نے آج ایک بڑا اور غیر متوقع فیصلہ کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل جیفری کروز کو دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی (DIA) کے سربراہ کے عہدے سے ہٹا دیا۔
یہ برطرفی ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب ایجنسی کی طرف سے جاری ابتدائی انٹیلی جنس رپورٹ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان سے متصادم نکلی۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے فوراً اعلان کیا کہ DIA کے ڈپٹی ڈائریکٹر کرِسٹِن بوردائن عارضی سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں گی۔
یہ فیصلہ ’اعتماد کے فقدان‘ کے تحت کیا گیا، تاہم کسی نے بھی برطرفی کا واضح جواز نہیں بتایا۔
ایران پر امریکی حملے کی ابتدائی رپورٹ اور صدر کی ناراضگی
جون میں ایران کے جوہری تنصیبات پر امریکی فضائی حملوں کا ابتدائی انٹیلی جنس جائزہ جاری ہوا جس میں کہا گیا کہ اسکے نتیجے میں ایران کا جوہری پروگرام صرف چند ماہ پیچھے گیا ہے، وہ بھی محدود نقصان کے ساتھ ۔
یہ مؤقف صدر ٹرمپ کے اس موقف سے متصادم تھا کہ ان تنصیبات کو ’مکمل طور پر ختم‘ کیا گیا۔
اس تضاد نے ایجنسی کی credibility کو خطرے میں ڈال دیا اور کرِسٹِن کی برطرفی کے فوری بعد خبریں لیک ہونے کے الزامات نے معاملے کو مزید بُرے رنگ میں پیش کیا۔
سیاسی اور سینیٹ میں ردِعمل
سینیٹر مارک وارنر نے اس برطرفی کو ’ایجنسی میں وفاداری کو قابلیت پر فوقیت دینے کی خطرناک روایت‘ قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
ایک جاری اصلاحاتی مہم
یہ برطرفی امریکی انٹیلی جنس اور عسکری قیادت میں جاری بڑے اسٹرکچرل بدلاؤ کا حصہ ہے۔
اس سے پہلے سینیئر حکام جیسے NSA کے سربراہ جنرل ٹموتھی ہو، چیئرمین جوائنٹ چیفز آف اسٹاف جنرل سی کیو براؤن، اور متعدد دیگر اعلیٰ افسران کو بھی معزول کیا جا چکا ہے۔