بحریہ ٹاؤن کی جائیداد نیلامی پر فوری حکم امتناع کی درخواست مسترد

سپرم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی جائیداد نیلامی پر فوری حکم امتناع کی درخواست مسترد کردی ہے جبکہ عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف ریفرنسز کی نقول جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے بحریہ ٹاؤن پراپرٹیز نیلامی سے متعلق درخواست پر سماعت کی ہے۔

دوران سماعت درخواست گزار وکیل فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے اور پراپرٹیز نیلامی پر فوری حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا کی۔

جسٹس امین الدین خان نے فوری حکم امتناع کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ حکم امتناع سے متعلق یک طرفہ نہیں بلکہ دوسرے فریقین کو بھی سن کر فیصلہ کریں گے۔

دوران سماعت جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ نیب ریفرنسز کی کاپیاں بھی اپیلوں کے ساتھ منسلک کریں تاکہ معلوم ہو اصل غبن کیا ہے، ملزمان نے نیب کے ساتھ پلی بارگین کی تھی، پلی بارگین میں 8 پراپرٹیز نیب کو دی گئیں، اب ملزم کہتا ہے پلی بارگین رضاکارانہ نہیں دباؤ کے تحت تھا۔

جسٹس نعیم اختر افغان کے بقول ملزم نے پلی بارگین ختم کرنے کی درخواست چیئرمین نیب کو دیں، پلی بارگین ختم کرنے کی درخواست کے بعد کیس پہلے کی اسٹیج پر آگیا، نیب جائیدادوں کی نیلامی کی طرف کیسے چلا گیا؟ پلی بارگین ختم کرنے کی درخواست کے بعد تو اب ریفرنس پر ملزمان کا ٹرائل ہوگا، ریفرنس پر سزا ہوئی تب پراپرٹیز ضبط ہوں گی۔

درخواست گزار وکیل فاروق ایچ نائیک نے مؤقف اختیار کیا کہ یہی کیس ہے، ہماری پلی بارگین ختم کرنے کی درخواست اور نیب ریفرنس التواء پرہیں۔

عدالت نے فاروق ایچ نائیک کو ملک ریاض اور بحریہ ٹاون کیخلاف ریفرنسز کی نقول جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 13 اگست تک ملتوی کردی۔

جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ 13 اگست کو مرکزی اور متفرق تمام درخواستوں پر سماعت ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں