قومی اسمبلی میں طویل غیر حاضری پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن شیخ وقاص اکرم کی رکنیت ختم کرنے کی تحریک پیش کر دی گئی۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے ایوان کو بتایا کہ شیخ وقاص اکرم گزشتہ چالیس روز سے بغیر کسی اطلاع کے غیر حاضر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قواعد و ضوابط کے تحت کوئی بھی رکن نشست خالی کرنے کے لیے تحریک لا سکتا ہے، اور تحریک کی منظوری پر نشست خالی قرار دی جا سکتی ہے۔
جس پر مسلم لیگ (ن) کی رکن نوشین افتخار نے فوری تحریک پیش کردی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ شیخ وقاص اکرم کی مسلسل غیر حاضری پر ان کی نشست خالی قرار دی جائے۔
اسپیکر نے وضاحت کی کہ قواعد کے مطابق وہ ہر صورت سات دن کے اندر اس تحریک کو ایوان میں رائے شماری کے لیے پیش کرنے کے پابند ہیں، جبکہ ایوان تحریک کو مؤخر، مسترد یا منظور کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
اپوزیشن نے تحریک کی مخالفت کرتے ہوئے نواز شریف اور حمزہ شہباز کی حاضریوں پر سوالات اٹھائے، تاہم اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں کی چھٹی کی درخواستیں ریکارڈ پر موجود ہیں، جبکہ شیخ وقاص اکرم کی جانب سے کوئی تحریری اطلاع یا درخواست موصول نہیں ہوئی۔
اسمبلی کے قواعد کے مطابق اگر بعد میں بھی شیخ وقاص کی حاضری یا چھٹی کی کوئی درخواست موصول ہو جائے، تب بھی نوشین افتخار کی پیش کردہ تحریک مؤثر رہے گی، کیونکہ اس پر فیصلہ ایوان کی رائے سے ہونا ہے۔
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کے 9 سینیٹرز اور ارکان قومی اسمبلی کو نااہل قرار دے دیا ہے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نااہل ہونے والوں میں اپوزیشن لیڈر سینیٹ شبلی فراز، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب، صاحبزادہ حامد رضا، زرتاج گل، جنید افضل ساہی، محمد انصر اقبال، رائے حسن نواز، رائے حیدر علی اور رائے مرتضیٰ اقبال شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ان تمام ارکان کو 9 مئی کے مقدمات میں عدالتوں سے سزائیں ہونے کے بعد آئین کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہے۔