ملتان کی حدود میں دریائے چناب کا خطرناک ریلا آج شام تک داخل ہونے کا امکان ہے۔ شہری آبادی کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا پر حفاظتی بند میں شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق سیلاب کے خطرے کے پیش نظر 3 لاکھ سے زائد افراد اپنی بستیوں اور گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔
متاثرین نے کشتیاں کم ہونے اور مویشیوں کی بروقت منتقلی کے انتظامات نہ ہونے پر انتظامیہ سے شکایات بھی کی ہیں۔
ادھر جلالپور پیر والا کے قریب دریائے ستلج میں 50 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے جس سے 140 دیہات زیرِ آب آگئے۔
اسی طرح راجن پور میں اونچے درجے کے سیلاب کے باعث نشیبی علاقوں سے لوگ پہلے ہی نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ بہاولپور میں بھی دریائے ستلج کے کناروں پر انخلا کا سلسلہ جاری ہے۔
فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ میں بھی سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ ہے اور دریائی و نشیبی علاقوں کے مکینوں کی منتقلی کا عمل جاری ہے۔
واضح رہے کہ پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو 1122، مقامی رضا کاروں کے ساتھ ساتھ پاک فوج اور پاکستان رینجرز بھی امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔