زیارات کے لیے زمینی راستے سے ایران اور عراق جانے پر حکومتی پابندی کے خلاف مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کی جانب سے اعلان کردہ احتجاجی قافلہ وقتی طور پر مؤخر کر دیا گیا ہے۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے رات گئے میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ ایم ڈبلیو ایم کی قیادت نے ان کی درخواست پر کراچی سے حب جانے والا قافلہ مؤخر کر دیا ہے۔
گورنر سندھ نے بتایا کہ وہ اس معاملے پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے تفصیلی گفتگو کر چکے ہیں جنہوں نے ملک میں موجود سیکیورٹی خدشات کو اس فیصلے کی بنیادی وجہ قرار دیا۔ اس کے علاوہ وزیر مملکت طلال چوہدری سے بھی اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا ہے۔
کامران ٹیسوری نے امید ظاہر کی کہ آج دوپہر تک معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مجلس وحدت المسلمین کی قیادت سے ہونے والی بات چیت پر مکمل عملدرآمد کریں گے اور ایک وفاقی نمائندے کے طور پر مسئلے کے حل کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ زائرین کی قیادت سے دوبارہ ملاقات بھی آج دوپہر طے ہے۔
یاد رہے کہ 27 جولائی کو وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان دیا تھا کہ اس سال زائرین کو ایران اور عراق زمینی راستے سے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، البتہ فضائی سفر کی اجازت ہوگی۔ انہوں نے یہ فیصلہ وزارت خارجہ، بلوچستان حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی مشاورت سے عوام کے تحفظ اور قومی سلامتی کے پیش نظر قرار دیا تھا۔
اس حکومتی فیصلے کو مجلس وحدت المسلمین نے مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ زائرین کے ہمراہ رمدان بارڈر کی جانب روانہ ہوں گے۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین ایم ڈبلیو ایم علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا تھا کہ کربلا زیارات پر جانا ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور ہم اپنے عقیدتی فریضے سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ایم ڈبلیو ایم کی قیادت نے حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ فضائی سفر پر بھاری ٹیکس عائد کر کے زائرین کا معاشی استحصال کیا جا رہا ہے، جبکہ زمینی راستے کی بندش سے اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔