امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ روس سے تیل خریدنے پر چین پر بھی مزید سخت ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہاکہ بھارت پر پہلے ہی 50 فیصد ٹیرف نافذ کیا جا چکا ہے اور اسی طرز پر چین کے خلاف بھی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چین کی جانب سے روسی تیل کی درآمد پر انہیں تشویش ہے اور اس بنا پر چین پر اضافی تجارتی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں، جبکہ روس پر کس نوعیت کا ٹیرف عائد کرنا ہے، اس کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ روسی حکام سے ان کی حکومت کی بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے اور جلد ہی اعلیٰ سطحی ملاقات متوقع ہے۔ انہوں نے کہاکہ مائیکرو چِپس اور سیمی کنڈکٹرز کی درآمد پر تقریباً 100 فیصد ٹیرف لگانے کا ارادہ ہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے ایران کو بھی متنبہ کیاکہ اگر تہران نے دوبارہ جوہری پروگرام کی طرف پیش قدمی کی تو امریکہ کارروائی کرے گا۔
یاد رہے کہ بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے بھارت سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر اضافی 25 فیصد ٹیرف عائد کردیا، جس کے بعد بھارت پر مجموعی امریکی ٹیرف 50 فیصد ہو گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت روس سے براہ راست اور بالواسطہ طور پر تیل درآمد کر رہا ہے، جس کے باعث اس پر اضافی ڈیوٹی عائد کرنا ضروری سمجھا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے بھارت پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ وہ اچھا تجارتی شراکت دار ثابت نہیں ہوا، کیونکہ روسی تیل کی خریداری کے ذریعے یوکرین جنگ کو ایندھن فراہم کر رہا ہے۔
ادھر بدھ کو صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی۔ کریملن کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات تعمیری اور مفید رہی۔