بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں 8 افراد کنویں میں زہریلی گیس کے باعث دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق یہ واقعہ ضلع کھنڈوا میں چائے گاؤں مکھن والا کے علاقے اس وقت پیش آیا جب مذہبی تہوار (گنگور) کی تقریب سے قبل یہ افراد کنویں کی صفائی کے لیے اُترے تھے۔
رپورٹ کے مطابق پہلے 5 افراد کنویں میں جمع کیچڑ نکالنے کے لیے اترے لیکن وہ دلدل میں پھنس گئے، جنہیں بچانے کیلئے مزید 3 افراد کنویں میں کودے لیکن وہ بھی پھنس گئے اور کنویں میں زہریلی گیس ہونے کی وجہ سے دم گھٹنے سے تمام افراد جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر دو افراد کنویں کی صفائی کے لیے اُترے، تاہم جب انہوں نے بتایا کہ کسی زہریلی گیس کی وجہ سے انہیں سانس لینے میں مشکل پیش آرہی ہے تو دیگر افراد ان کی مدد کے لیے کنویں میں چلے گئے۔
کھنڈاوا کے کلیکٹر رِشیو گُپتا اور ایس پی منوج کمار نے بتایا کہ ایک کے بعد ایک مزدور کنویں میں اُترا اور اس طرح آٹھ افراد یکے بعد دیگرے کنویں میں گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران تمام آٹھ افراد زہریلی گیس کے باعث دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئے جن کی لاشیں کنویں سے نکال کی گئی ہیں۔
ایس پی منوج کمار کا کہنا تھا کہ کنویں میں پھنسے افراد کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، تاہم زہریلی گیس کے باعث دم گھُٹنے سے اُن کی موت واقع ہو گئی۔
پولیس نے بتایا کہ مرنے والے افراد میں 23 سال کے راکیش پٹیل، 25 برس کے انیل پٹیل اور 24 برس کے اجے پٹیل شامل تھے۔
ان کے علاوہ شرن پٹیل (عمر 35 سال)، واسُودیو پٹیل (40عمر برس)، گجانن پٹیل (عمر 35 سال) ارجن پٹیل (عمر 35 برس) اور موہن پٹیل (عمر 53 سال) بھی اس حادثے میں ہلاک ہو گئے۔
کھنڈاوا کے کلیکٹر رِشیو گُپتا کے مطابق یہ کنواں صرف مُورتیوں مرنے والے ہر شخص کے اہل خانہ کو چار لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا جائے گا۔