وزارت داخلہ نے اسٹار لنک کو پاکستان میں کام کرنے کے لیے کلیئرنس دے دی ہے اور اسپیس ریگولیٹری بورڈ نے این او سی بھی جاری کردیا ہے۔
اسٹار لنک نے اب آخری مرحلہ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی سے رجسٹریشن لینی ہے، پی ٹی اے کی جانب سے لائسنس کے اجرا کے بعد کمپنی پاکستان میں باقاعدہ اپنی سروسز کا آغاز کرسکے گی۔
کمپنی کو پی ٹی اے کو 6 لاکھ 40 ہزار امریکی ڈالر کی لائسنسنگ فیس ادا کرنی ہوگی، پی ٹی اے حکام کے مطابق اسٹار نے اپنے تکنیکی اور مالیاتی منصوبوں کے ساتھ پہلے ہی لائسنس کے لیے اپنی درخواست اور مطلوبہ دستاویزات جمع کروا رکھی ہیں، جن کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
پی ی اے کے مطابق اسٹار لنک کی سروسز موجودہ نیٹ ورک میں کسی قسم کا خلل پیدا نہیں کریں گی۔
لائسنس ملنے کے بعد اسٹار لنگ پاکستانی صارفین سے اپنی انٹرنیٹ سروسز کے لیے درخواستیں وصول کرنا شروع کردے گی۔ مزید برآں، کمپنی کو ملک بھر میں اپنے آلات نصب کرنے کی اجازت ہوگی۔
اسٹار لنک پاکستان میں 2 سے 3 گراؤنڈ اسٹیشن قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ اس کے آپریشنز کو اسپورٹ مل سکے۔
کمپنی نے پاکستان میں رجسٹریشن کے حوالے سے 3 مراحل مکمل کرلیے ، پاکستان میں یکم جون 2022 میں کمپنی کی رجسٹریشن کروائی گئی تھی اورایس ای سی پی اور پاکستان سافٹ وئیر ایکسپورٹ بورڈ سے رجسٹریشن حاصل کی تھی۔