اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں شدید بمباری کی ہے جس سے کم از کم 200 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق خان یونس، رفح اور غزہ سٹی میں ہونے والی اس بمباری کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں میں سے کئی بچے بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ یہ بمباری اس جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی ہے جو حماس اور اسرائیل کے درمیان جنوری کے مہینے میں طے پائی تھی۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی افواج کو حماس کے خلاف کارروائی کا حکم اس کے قید میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کرنے پر دیا۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ آج کے بعد اسرائیل حماس کے خلاف ’زبردست فوجی طاقت‘ کے ساتھ کارروائی کرے گا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ٹیلی گرام پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ غزہ میں حماس کے دہشتگرد اہداف پر فضائی کرروائی کررہی ہے تاہم حماس نے حالیہ کارروائیوں کو اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے کی کوشش قرار دی ہے۔
واضح رہے کہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں حماس نے 30 سے زائد اسرائیلی یرغمالی رہا کردیے ہیں جبکہ اسرائیل نے 200 کے لگ بھگ فلسطینی قیدیوں کو جیلوں سے آزاد کردیا ہے۔ تاہم اب اسرائیل کا اصرار ہے کہ اس مرحلے کو اپریل کے وسط تک توسیع دی جائے۔
اسرائیل کی جانب سے حالیہ کارروائی اور بڑی تعداد میں فلسطینیوں کی شہادت کے بعد دونوں قوتوں کے درمیان جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے لیے ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔
مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں حماس کے پاس موجود 60 کے قریب باقی ماندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور مستقل جنگ بندی ہونا تھی