کراچی میں قتل ہونے والے نوجوان مصطفیٰ عامر کے مبینہ قاتل ارمغان نے اعتراف جرم کے دوران یہ بھی بتایا ہے کہ مقتول پر تشدد تیز کرنے سے قبل اس نے کس طرح ڈرامائی انداز اپنایا۔
واضح رہے کہ قتل کے مقدمے کی تفتیش کا عمل تیزی سے جاری ہے اور ملزم ارمغان نے دوران تفتیش مصطفیٰ کے قتل کااعتراف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس نے مصطفیٰ کو کس طرح ایک فلمی ولن کی طرح قتل سے پہلے زدوکوب کیا۔
رپورٹ کے مطابق تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے کراچی کے متمول علاقے ڈیفینس میں واقع اپنے گھر آئے ہوئے اپنے دوست مصطفیٰ عامر کو پہلی مرتبہ لوہے کی سلاخ پہلے راڈ ماری تو وہ زخمی ہوگیا اور وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی۔ اس پر ارمغان نے مصطفیٰ کو روکا اور کہا کہ چلو ٹاس کرلیتے ہیں اگر چاند آیا تو تمہیں چھوڑ دوں گا اور اگر چھاپ آیا تو مار دوں گا۔
سکہ اچھالا گیا اور چاند آگیا لیکن ارمغان نے مصطفیٰ کو چھوڑنے کی بجائے سلاخ سے پیٹا پھر دوسری مرتبہ بھی ٹاس کیا گیا اور پھر وہی آیا جو مصطفیٰ نے مانگا تھا یعنی چاند لیکن وعدے کے برخلاف ارمغان نے مصطفیٰ کو پیٹنا بند نہیں کیا اور مار مار کر ادھ موا کردیا۔
تیسرا ٹاس اور زندہ جلادیا جانا
اس کے بعد مصطفیٰ کو بلوچستان کے علاقے حب کی حدود دوریجی لےجایا گیا جہاں تیسری بار ٹاس کیا گیا۔ یہ ٹاس اس بات پر کیا گیا تھا کہ مصطفیٰ کو جان سے ماردیا جائے یا چھوڑ دیا جائے۔ لیکن اس مرتبہ مصطفیٰ ٹاس ہار گیا اور ارمغان نے اسے زندہ جلادیا۔
پولیس نے ملزم ارمغان سے رابطے رکھنے والے گذری تھانے کے ایک اے ایس آئی کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔
کیس ہے کیا؟
یاد رہے کہ ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر نے 14 فروری کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مقتول مصطفیٰ عامر 6 جنوری کو ڈیفنس کے علاقے سے لاپتا ہوا تھا۔ مقتول کی والدہ نے اگلے روز بیٹے کی گمشدگی کا مقدمہ درج کروایا تھا۔ 25 جنوری کو مصطفیٰ کی والدہ کو امریکی نمبر (جعلی نمبر) سے 2 کروڑ روپے تاوان کی کال موصول ہونے کے بعد مقدمے میں اغوا برائے تاوان کی دفعات شامل کی گئی تھیں اور مقدمہ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) منتقل کیا گیا تھا۔
بعد ازاں، اے وی سی سی نے 9 فروری کو ڈیفنس میں واقع ملزم کی رہائشگاہ پر چھاپہ مارا تھا تاہم ملزم نے پولیس پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی اے وی سی سی احسن ذوالفقار اور ان کا محافظ زخمی ہوگیا تھا تاہم ملزم کو کئی گھنٹے کی کوششوں کے بعد گرفتار کرلیا گیا تھا۔
بعد ازاں پولیس نے جسمانی ریمانڈ لینے کے لیے گرفتار ملزم کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا تو جج نے ملزم کا ریمانڈ دینے کے بجائے اسے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا جس کے خلاف سندھ پولیس نے عدالت عالیہ میں اپیل دائر کی تھی۔
ملزم نے ابتدائی تفیش میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے مصطفیٰ عامر کو قتل کرنے کے بعد لاش ملیر کے علاقے میں پھینک دی تھی لیکن بعدازاں اپنے بیان سے منحرف ہوگیا تھا۔ بعدازاں اے وی سی سی اور سٹیزنز پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کوششوں سے ملزم کے دوست شیراز کی گرفتاری عمل میں آئی تھی جس نے اعتراف کیا تھا کہ ارمغان نے اس کی ملی بھگت سے مصطفیٰ عامر کو 6 جنوری کو گھر میں تشدد کا نشانہ بناکر قتل کرنے کے بعد لاش اسی کی گاڑی میں حب لے جانے کے بعد نذرآتش کردی تھی۔
ملزم شیراز کی نشاندہی کے بعد پولیس نے مقتول کی جلی ہوئی گاڑی حب سے برآمد کرلی تھی جبکہ حب پولیس مقتول کی لاش کو پہلے ہی برآمد کرکے رفاہی ادارے کے حوالے کرچکی تھی جسے امانتاً دفن کردیا گیا تھا، مصطفیٰ کی لاش ملنے کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
تفتیشی افسران کے مطابق حب پولیس نے ڈی این اے نمونے لینے کے بعد لاش ایدھی کے حوالے کی تھی۔ گرفتار کیا گیا دوسرا ملزم شیراز ارمغان کے پاس کام کرتا تھا، قتل کے منصوبے اور لاش چھپانےکی منصوبہ بندی میں شیراز شامل تھا۔
کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول مصطفیٰ کا اصل موبائل فون تاحال نہیں ملا ہے۔ ملزم ارمغان سے لڑکی کی تفصیلات، آلہ قتل اور موبائل فون کے حوالے سے مزید تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔
بعدازاں پولیس نے لاش کے پوسٹ مارٹم کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں قبر کشائی کی درخواست دی تھی جس پر عدالت نے قبر کشائی کا حکم جاری کردیا تھا۔
دریں اثنا، 15 فروری یہ بات سامنے آئی تھی کہ مصطفیٰ اور ارمغان میں جھگڑے کی وجہ ایک لڑکی تھی جو 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی تھی۔ لڑکی سے انٹرپول کے ذریعے رابطے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ملزم ارمغان اور مقتول مصطفیٰ دونوں دوست تھے۔ لڑکی پر مصطفیٰ اور ارمغان میں جھگڑا نیو ایئر نائٹ پر شروع ہوا تھا، تلخ کلامی کے بعد ارمغان نے مصطفیٰ اور لڑکی کو مارنے کی دھمکی دی تھی۔
پولیس حکام نے بتایا کہ ارمغان نے 6 جنوری کو مصطفیٰ کو بلایا اور تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر جلا کر ماردیا۔