*اگر آپ مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں یا پھر آمدن سے زائد اخراجات کے مسئلے کا شکار ہیں تو پھر آپ سپر اسٹورز سے سامان خریدتے وقت یہ غلطیاں کرنے بچیں۔
عام طور پرصارف جب سپراسٹور جاتا ہے تو اسے وہاں ایک آزادی محسوس ہوتی ہے جو علاقوں میں قائم پرچون کی دکانوں پر حاصل نہیں ہوسکتی، وہ آزادی سپراسٹور پر موجود اشیا کو چُھونے سے لیکر اس کی قیمت چیک کرنے تک کی ہوتی ہے، سپر اسٹور کا عملہ بھی معاونت کے لیے موجود ہوتا ہے۔
جب کسی صارف کو اس قسم کی آزادی ملتی ہے اور آس پاس ڈھیر ساری اشیا بھی ہوتی ہیں تو اس صورت میں اگر وہ اپنی ماہانہ ضرورت کی اشیا لینے جاتا ہے تو کچھ غیر ضروری اشیا بھی یہ سوچ کر خرید لیتا ہے کہ یہ آگے جا کر کام آجائیں گی۔
صارف یہاں ایک اور غلطی کرتے ہیں کہ وہ اس دوران اشیا ضروریہ کے علاوہ ایسی اشیا بھی خرید لیتے ہیں جن کی انہیں ضرورت نہیں ہوتی اور یہ عموماً فینسی آئٹمز ہوتے ہیں، اس لیےجب بھی کوئی صارف سپر اسٹور کا رُخ کرتا ہے تو مثلاً خریدنے ایک کلو چاول جاتا ہے لیکن جب وہ وہاں سے لوٹتا ہے تو اس کے پاس چاول کے علاوہ بھی کئی اشیا ہوتی ہیں جو یہی سوچ کر خریدی جاتی ہیں کہ آگے جا کر کام آجائیں گی۔
آپ کسی بھی سپراسٹورز چلے جائیں وہاں آپ کو اس قدر رش ملے گا کہ آپ خود سے یہ سوال کریں گے کہ کیا یہاں سب کچھ مفت میں ملتا ہے؟
نہیں ایسا نہیں ہے، دراصل سپراسٹورز نے اپنی ایک سائنس بنائی ہوئی ہے جس پر چل کر وہ صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں، ان کا ایک سب سے بڑا حربہ ’آزادی‘ سے متعلق تو ہم پہلے ہی بات کرچکے ہیں کہ جب کسی انسان کو آزادی ملتی ہے تو وہ اس کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، یہی آزادی اسے پرچون کی دکان پر نہیں ملتی لیکن سپراسٹور پر ملتی ہے تو وہ اپنے ماہانہ بجٹ میں خسارہ کردیتا ہے۔
دوئم یہ کہ سپراسٹورز میں خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل کرنے کا آپشن ہوتا ہے جو کہ گلی محلوں کی دکانوں پر نہیں ہوتا بلکہ وہاں تو صاف صاف لکھا ہوتا ہے کہ خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہوگا، صارف اس سہولت سے فائدہ اٹھا کر بھی سپر اسٹورز سے شاپنگ کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔
سپراسٹورز میں اشیا کی ترتیب ایک سائینٹفک طریقے سے ہوتی ہے، یعنی کھانے پینے کا سامان ایک جگہ جمع ہوگا اور اس کی مختلف ورائٹیز دستیاب ہوں گی جس سے صارف کو سامان خریدنے کی اور مختلف ورایٹی خریدنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔
سپراسٹور میں ہر شے کی قیمت لکھی ہوتی ہے۔ عام طور پر پرچون کی دکان سے آپ ہر چیز کی قیمت پوچھ نہیں سکتے کیونکہ دکانداروں کا رویہ اس حوالے سے روایتی ہوتا ہے جبکہ سپراسٹورز پر صارف کے ہاتھ میں ہے کہ وہ کسی بھی چیز کی اشیا باآسانی معلوم کرسکتا ہے۔
کچھ سال پہلے عوام اپنی اشیا ضروریہ اپنے علاقوں کی پرچون کی دکانوں سے لیا کرتی تھی، اب چونکہ سپراسٹورز کا سسٹم چلا ہے تو وہ مہینے بھر کی شاپنگ سُپر اسٹورز سے کرلیتے ہیں لیکن یہاں وہ کچھ ایسی غلطیاں کرتے ہیں جس سے ان کا ماہانہ بجٹ متاثر ہوجاتا ہے۔
سپراسٹورز پر چونکہ تمام اشیا ضروریہ دستیاب ہوتی ہیں اس لیے جب کوئی وہاں کا رخ سبزیاں لینے کے لیے بھی کرتا ہے اور اس کی نظر ایک شرٹ پر پڑجاتی ہے تو اسے یاد آجاتا ہے کہ اس کے پاس کپڑوں کی کمی ہے اور اسے ابھی یہ خرید لینی چاہیے، جس سے اسے مزید بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ سپراسٹورز کی چالاکیاں کہیں یا پھرایک اور سائنس کہ انہوں نے کیش کاونٹر پربھی کافی ساری چھوٹی چھوٹی اشیا رکھی ہوتی ہیں جن میں خاص طور پر بچوں کے استعمال کی اشیا شامل ہوتی ہیں، جب صارف کے بچے ان اشیا کودیکھتے ہیں تو وہ انہیں خریدنے کی فرمائش کرتے ہیں اور یوں بِل میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔
سپراسٹورز یوں تو صارفین کے لئے آسانی کا باعث بن گئے ہیں لیکن اگر وہ صارفین جو مہنگائی سے تنگ ہیں یا آمدن سے زائد اخراجات کا شکار ہیں، انہیں چاہیے کہ سپراسٹورز جاتے ہوئے ایک مخصوص رقم لیکر ہی جائیں اور اسی کے اندر رہتے ہوئے خریداری کریں ، اس طرح ان کا ماہانہ بجٹ بھی برقرار رہے گا اور مہینے کے آخر میں ادھار لینے کی نوبت نہیں آئے گی