پیکا متنازع ایکٹ کیخلاف کراچی پریس کلب کا یکم مارچ کو ’آزادی کنونشن‘ منعقد کرنے کا اعلان

کراچی پریس کلب نے پیکا ایکٹ کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے یکم مارچ کو صحافت کی آزادی، سیاست کی آزادی، عدالت کی آزادی اور جمہوریت کی آزادی کے لیے ’آزادی کنونشن‘ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

کراچی پریس کلب کے زیراہتمام پیکا ایکٹ کے خلاف مشاورتی اجلاس کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں سیکریٹری کراچی پریس کلب محمد سہیل افضل خان، ماہر قانون دان بیرسٹر صلاح الدین احمد، کراچی بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری عبدالرحمن کورائی، آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی کے شہاب زبیری نے شرکت کی۔

مشاورتی اجلاس میں سی پی این ای کی جانب سے سینئر صحافی انورساجدی، پاکستان یونین آف جرنلسٹس دستور کے سیکریٹری جنرل علاءالدین ہمدم خانزادہ ، صدرکے یوجے دستورحامد الرحمن، پی ایف یو جےعاجزجمالی ، پروگرام منیجر عورت فاونڈیشن ملکہ خان، کے یوجے کی جنرل سیکریٹری لبنیٰ جرار نقوی، سربراہ ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن پاکستان کی جانب سے زہرہ خان ، سربراہ نیشنل ٹریڈ یونین کے ناصر منصور ،چیئرمین ہیومن رائٹس کمیشن اسد اقبال بٹ ، خازن کراچی پریس کلب عمران ایوب، جوائنٹ سیکریٹری کراچی پریس کلب محمد منصف نے شرکت کی۔

اجلاس میں شرکا نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ پیکا ایکٹ کے خلاف کراچی پریس کلب کو احتجاجی تحریک کا آغاز کرنا چاہئیے اور اس ایکٹ کے ذریعے سیاسی جماعتوں، صحافی برادری ، وکلا ، ڈاکٹرز ، مزدور، سماجی ورکرز، طلبہ ، اساتذہ ، کو ٹارگٹ بنایا گیا، اور یہ معاملہ قابل تشویش ہے کہ اس ایکٹ پر کل کے مخالف آج کے حمایتی کیسے بن گئے۔

شرکا نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اپنے اصولوں پر لچک دکھا کرسمجھوتہ کر بیٹھی ہیں جس کی وجہ سے غیر جمہوری قوتوں کے لئے میدان خالی ہوگیا ہے۔ کراچی پریس کلب کو حکومتی اقدام کے خلاف عدلیہ سے رجوع کرنا چاہئیے۔

شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پیکا ایکٹ درحقیقت ایک کالا قانون ہے جسے فوری طور پر کالعدم قرار دینا چاہئیے ، حکومت نے پیکا ایکٹ کے زریعے غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدام کو تحفظ فراہم کر دیا ہے کیونکہ اس ایکٹ کی منظوری سے قبل اقتدار کے نشے میں مست حکام صحافیوں ، ڈاکٹرز ، وکلا ، طلبہ ، اساتذہ اور شاعروں کو اظہار رائے پر اٹھایا جاتا رہا ہے۔

اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ اس متنازع ایکٹ کے خلاف ہم سب کو مل کر منصوبہ بندی کے ساتھ بھر پور احتجاجی تحریک کا آغاز کرنا ہوگا تاکہ عوامی سطح پر کالے قانون کے خلاف پذیرائی مل سکے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یکم مارچ کو آزادی کنونشن منعقد کیا جائے گا جس میں معاشرے کے تمام متاثرین کو نہ صرف دعوت دی جائے گی بلکہ آئندہ کا لائحہ عمل بھی ترتیب دیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں