ایم کیو ایم پاکستان میں انتشار کا معاملہ اراکین اسمبلی نے تمام اختلافات کی خبروں کو مسترد کر دیا، ایم کیو ایم کے عارضی مرکز بہادرآباد پر تمام اراکین موجود ہیں۔
ایم کیو ایم پاکستان ایک بار پھر انتشار کا شکار ہے، گزشتہ روز بہادرآباد پر کارکنان کی جانب سے احتجاج کیا اور گو گورنر سندھ کے نعرے بھی لگائے گئے۔
ایم کیو ایم نے تمام اراکین اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جس کو ہفتہ وار اجلاس کا رنگ دیا گیا، اراکین اسمبلی نے میڈیا سے آنکھیں چرانا بھی شروع کردیں، جنہوں نے بات کی کہاکہ پارٹی میٹنگ ہے اختلافات تو ہوتے رہتے ہیں۔
اجلاس کی قیادت سینئر ڈپٹی کنونئیر فاروق ستار نے کی، اجلاس میں انیس قائم خانی، ارشد وہرا اور دیگر اراکین اسمبلی موجود تھے، تاہم خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال نہیں تھے۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ ہمارے درمیان کوئی اختلافات نہیں، اچھا ہے اسٹیٹس کو پر بات کی جارہی ہے، تمام مسائل کا جلد حل نکالاجائے، حل نہیں نکالا جاتا تو بات باہر آتی ہے۔
اس موقع پر سینئر ڈپٹی کنونئیر ڈاکٹر فاروق ستار کہا کہ جس نے بھی پروٹوکول توڑا ہے، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ایم کیو ایم بہادر آباد مرکز پر مصطفی کمال اور کارکنان کے پہنچے سے قبل ہی سینئر قیادت جاچکی تھی۔ پاک سرزمین سے آئے کارکنان کی مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کی زیر صدارت اجلاس میں شرکت کی۔
دوسری جانب ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر فاروق ستار، امین الحق اور دیگر نے گورنر سے رابطے تیز کر دیئے۔ گورنر ہاؤس میں ایم کیو ایم پاکستان کا جلد اجلاس متوقع ہے۔
قبل ازیں ایم کیو ایم پاکستان نے پارٹی میں جاری اختلافات کے حوالے سے چلنے والی خبروں کے بعد ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔
سربراہ ایم کیوایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ کامران ٹیسوری پر پوری پارٹی کو اعتماد ہے، وہ ہمارے گورنر ہیں اور کہیں نہیں جا رہے، ٹیسوری سندھ کے گورنر رہیں گے، پارٹی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز میڈیا میں خبریں آئی تھیں کہ ایم کیو ایم پاکستان میں اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں، بہادر آباد دفتر پر کارکنان نے دھاوا بول دیا تھا۔
تنظیمی معاملات کی تقسیم پر ایم کیوایم کے کارکنان نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی بہادر آباد سے چلے گی، گورنر ہائوس سے نہیں، کارکنان نے گو گورنر گو اور گو ٹیسوری گو کے نعرے بھی لگائے تھے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنان نے تنظیمی معاملات کی تقسیم پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا مرکزی دفتر بہادرآباد میں ہے لیکن فیصلے گورنرہاؤس سے کیے جا رہے ہیں۔
ایم کیو ایم نے میڈیا پر اپنی جماعت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دو روز سے بعض عناصر سوشل میڈیا پر معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے اور جان بوجھ کر انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔