ہم ابھی کہاں کھڑے ہیں؟ (تحریر:ارباب مشتاق)

انسانی تاریخ صدیوں پُرانی ہو یا نا ہو‘ہزاروں سال پرانی تو ہو گی انسان جب سے اس دنیا میں پیدا ہوا تو اُس کو اللہ کی ایک وحدانیت ذات و صفات کا درس دیا اور آج تک یہ درس و تدریس کا کام جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اتنے خوبصورت اشکال سے نوازا ہے اور انسان کے اندر روح ڈالی وہی انسان کو خوش عقل بھی بنایا۔ پھر انسان بڑھتا گیا اور اپنی محنت سے کامیابیوں کے پہاڑ چڑھتا گیا وہ اپنی جستجو میں لگ گیا۔ کوئی اللہ تعالیٰ کے دین کی سرفرازی کیلئے لگ گیا تو انسان دنیاوی غرض میں لگ گیا۔ حرص و حوس نے انسان کو ایسی ہتھکڑیاں لگا دی کہ جن سے چھٹکارہ پانا مشکل ہو گیا اور پھر یہی سلسلہ آج تک جاری ہے حالانکہ چاہیے تو یہ تھا کہ انسان دینی و دنیاوی ضرورتوں کو لے کر چلتا لیکن انسان صرف دنیا کے کاموں میں کے پیچھے بھاگا اور اپنا دین‘ مقصد اور عبادت بھلا بیٹھا اور تخت و تاج کو گنوا بیٹھا۔ پھر کیا ہوا کہ مشکلات سے دوچار ہو گیا اور حکمرانی رہی نہ بادشاہت اور مسلمانوں کو بڑی بڑی سلطنتوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔ عزت‘ شہرت خاک ملی وہی حکومت رہی نہ تجارت بچی۔ مسلمان نام ہی ہمت‘ حوصلہ‘ جرات اور شجاعت کا ہے لیکن ہم نے دنیا میں وہ مقام کھویا۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟اس لیے کہ ہم مسجدوں کی بجائے مے خانے میں چلے گئے۔ کسی بیمار کی عیادت کرنے کی بجائے ہم رنگا رنگ محفلوں میں چلے گئے۔ قرآن پاک جیسی مقدس کتاب کو تھامے کی بجائے ہم نے انگریزی نظریات کو پکڑ لیا ہے۔ مجھے اس وقت جون ایلیا ء کا شعر یاد آ گیا ہے
اک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میں
سب کے دل سے اُتر گیا ہوں میں
اور پھر کیا ہوا کہ مسلمان نے خود کو امیر اور غریب میں تقسیم کر لیا یعنی طبقات میں جن میں امیر طبقہ‘ متوسط طبقہ اور غریب طبقہ قابل ذکر ہے۔ پھر ہم خود کو ذاتوں میں تقسیم کیا اور پھر ہم نے خود کو فرقوں میں تقسیم کر لیا۔ یہی ہے وہ نقطہ نظر جس کے بارے میں آپ سب کو آگاہ کرنا چاہتی ہوں کہ ہم ابھی یہاں کھڑے ہیں حالانکہ اسلام نے تو یہ سب کچھ نہیں بتایا تھا جس پر آج ہم عمل پیرا ہیں۔یہ ذات پات‘ رنگ و نسل‘ فرقہ واریت اور تو اور طبقات۔ واہ رہے واہ آج کا انسان تو یہاں کھڑا ہے۔
وائے نادانی کہ تو محتاج ساقی ہو گیا
مے بھی تو‘مینا بھی تو‘ساقی بھی تو‘محفل بھی تو

لیکن پھر جب مسلمانوں نے اپنی کمر کسی تو پھر عظیم لوگوں نے دشمن عناصر قوتوں کو عبرتناک شکست دی۔انسان نے خود کو منظم کیا اور قرانی تعلیمات سے بہرور دوبارہ ہوئے تو پوری کائنات کو اپنے اوپر مسنخر کر دیا۔
مسلمان پوری دنیا کو استاد بنے علم و ہنر معیشت اور تجارت میں پوری دنیا کی رہنمائی کی۔ اور پھر بڑے بڑی سلطنتیں قائم ہوئیں۔مسلمانوں نے تیر اندازی کی اور شمشیر زنی کے جوہر دکھائے اور پھر تاریخ اسلام میں طارق بن زیاد‘ محمد بن قاسم‘ ہارون الرشید‘غزنین محمود‘عبدالرحمن‘ الپ ارسلان‘یوسف ابن تشفین‘ صلاح الدین ایوبی‘ قطب الدین ایبک“رضایہ سلطانہ‘ عثمان غازی‘ ارتغرل غازی اور ٹیپو سلطان جیسے کئی عظیم رہنما آئے اور اپنی جرات‘ ہمت اور بہادری سے عظیم داستانیں قائم کر گئے۔ یہ سب لوگ جب جنگیں لڑتے تھے تو ہاتھ میں شمشیر اور اللہ پہ یقین ہوتا تھا۔ ہم ایسے جواہر کیوں نہیں دکھاتے کیونکہ ہم اپنی ثقافت اور اپنی مذہبی تعلیمات کو بھلا بیٹھے ہیں۔
اٹھو مسلمانوں کمر کسوں اور ہاتھ میں شمشیر پکڑوں‘ یقین اللہ پر رکھو اور ملک اور مذہب دشمن عناصر کی گردنیں اُڑا دوں اور پوری دنیا کے کونے کونے میں اسلام کے جھنڈے گاڑا دو
وہ بھی خائف نہیں تختہ دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہوزنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا میں نہیں مانتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں