اللہ کے غضب کو آواز(تحریر:نفیسہ بتول)

8 مارچ کو پاکستان کی سڑکوں پر خواتین کے ایک گروہ نے بے حیائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جس بغاوت کا اعلان کیا وہ اللہ تعالی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح احکامات سے تھی ان کے جتنے بھی نعرے تھے وہ اسلامی تعلیمات کی نفی کرتے تھے جن پابندیوں کو نہ ماننے کی وہ بات کر رہی تھیں وہ اللہ تعالی نے لگائی ہیں فرمایا کہ۔۔۔۔۔اور ایمان والی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں(النور )
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ۔۔۔۔جب کوئی شخص اپنی بیوی کو ہم بستری کے لئے بلائے تو اسے فوری آنا چاہئے خواہ وہ کھانا پکانے میں مصروف کیوں نہ ہو ( ترمذی ) 1970ء کی دہائی میں ایک خاتون نے قومی اسمبلی میں مولانا مفتی محمود سے پوچھا کہ مرد چار شادیاں کر سکتا ہے تو عورت کیوں نہیں؟
مفتی صاحب نے جواب دیا کہ ! محترمہ آپ بیس کریں آپ کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں پابندی تو قرآن کا حکم ماننے والوں کے لئے ہے نہ ماننے والے تو بہت کچھ کر سکتے ہیں ۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی تھا شرم و حیا سے عاری واہیات عورتوں کا یہ گروہ ایک ایسے ملک میں یورپ کی رنگینیوں والا ماحول چاہتا ہے جو بنا ہی اسلام کے نام پر تھا اس وقت نعرہ ہی یہی تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ، آزادی حاصل کرنے کے بعد اب اگر اس عرض پاک پر چند بےحیا اور بے شرم عورتیں ایسے پلے کارڈز لے کر سڑکوں پر نکلیں جن پر درج ہو کہ !
آئی ایم ان پریڈ میں ناپاک نہیں ہوں
میں عزت نہیں رنڈی ہوں
میرا جسم میری مرضی
بدچلن ہوں آوارہ ہوں تمہیں کیا ؟
یہ چند معمولی مثالیں ہیں وگرنہ جو کچھ وہاں نظر آیا حکمرانوں سمیت ان تمام اداروں کے منہ پر طمانچہ تھا جنہوں نے ان غلیظ عورتوں کو ایسا کرنے کی اجازت دی ابھی حال ہی میں مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد والا وہ دھرنا جس میں مرد سر ڈھانپے پانچ وقت کی نماز کے ساتھ تہجد ادا کرتے بھی نظر آئے کی پاکستانی میڈیا نے براہ راست کوریج بھی نہ کی اور رات کو دکھایا بھی تو جھلکیوں کی صورت میں جبکہ بے حیائی اور بے غیرتی کے 8 مارچ والے مناظر نہ صرف لائیو دکھائے گئے بلکہ ٹی وی کی سکرین کو چار حصوں میں تقسیم کر کے ایک ہی وقت میں چار مختلف شہروں کے قابل شرم مناظر دکھائے گئے جہاں بگڑی عورتیں اس مغربی معاشرے کی ڈیمانڈ کر رہی تھیں جہاں شادی کا رواج ہی ختم ہوتا جا رہا ہے جہاں بارہ سال کی بچی جنسی عمل سے گزر رہی ہے جہاں باپ تو دور کی بات خود ماں بھی نہیں جانتی کہ اس کے بچے کا باپ کون ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایسے معاشرے کی کوئی گنجائش نہیں اسلامی مملکت میں اللہ کے احکامات سے بغاوت کی کوئی گنجائش نہیں نافرمانیاں اور روگردانیاں عذاب الہی کا موجب بنتی ہیں جو قوم بھی جنسی آوارگی میں مبتلا ہوئی وہ اس اندھے کی طرح تباہی کے گڑھے میں گر کر ہلاک ہوئی جس کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ ہو ، حیرت کے لمحات تھے جب عورت مارچ میں ایک پونی باندھے وجیہ نوجوان فخر سے بتا رہا تھا کہ اس کی بہن اگر کسی غیر مرد کے ساتھ سوتی ہے تو اسے کوئی پرواہ نہیں یہ اس کا مسلہ ہے ، واہ اقبال کے شاہین تو کہاں سے چلا تھا اور کہاں آ پہنچا جب پاکستان میں بازار حسن موجود تھے تو شاذ و نادر ہی کبھی کسی نے جسم فروشی کرنے والی خواتین کو ننگے سر یا بے پرد باہر گھومتے دیکھا ہو گا ایک اسلامی ملک میں انکا وجود ممکن تو نہیں تھا مگر کم از کم بے حیائی سرعام تو نہ تھی اور نہ ہی پانچ چھ سال کی بچیاں ریپ ہوتی تھیں بائیس کروڑ کے معاشرے کو بچانے کے لئے ان چند واہیات افراد کا کوئی علیحدہ محلہ بنا دیا جائے جہاں یہ جانے اور ان کی مادر پدر آزادی بقیہ لوگوں کو عزت و آبرو سے زندگی بسر کرنے دیں خربوزہ خربوزے کا رنگ پکڑ گیا تو بربادی ہو جائے گی یاد رکھیں عفت کی زندگی اسی وقت گزاری جا سکتی ہے جب بدکاری کی دعوت دینے والی یا والے کی زبان کاٹ دی جائے عجیب تضاد ہے کہ اگر کوئی مرد ایسے واہیات نعرے لگاتا سڑک پر آ جائے تو اسے سر عام فحاشی پھیلانے کے جرم میں پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے جبکہ بے حیائی کا مظاہرہ کرنے والی خواتین کو حکومتی تحفظ میں ایسا کرنے کی اجازت دی جاتی ہے ، آج وزیر اعظم نے ایک تقریب میں عورت مارچ کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ نجی سکولوں میں غیر معمول فیسیں دے کر تعلیم حاصل کرتے ہیں تو جب وہ معاشرے کو دیکھتے ہیں تو انہیں بے پناہ خامیاں نظر آتی ہیں، گویا ملک میں پھیلی عریانی فحاشی بے حیائی اور بے غیرتی کا گہوارہ یہی سکول ہیں اگر ایسا ہی ہے تو وزیر اعظم کو برائی کے ان اڈوں کو فی الفور گرانے کے احکامات جاری کر دینے چاہئیں تھے کیونکہ جب انہوں نے بطور وزیراعظم حلف اٹھایا تھا تو اس میں یہ الفاظ بھی شامل تھے کہ ۔۔۔۔۔میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لئے کوشاں رہوں گا جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں