ہوتی ہیں بیٹیاں پھول جیسی(مقدس بانو)

کبھی پھول دیکھے ہیں. ارم نے سوچتے ہوئے کہا. ماہین مسکرا کر یار روز ہی دیکھتی ہو. ہر جگہ لگے ہوتے ہیں اس میں کیا خاص بات ہے. پھول کتنے رنگ برنگے ہوتے ہیں. جب کھلتے ہیں تو کتنے تازہ، پیارے اور خوبصورت لگتے ہیں. ان پر پڑے شبنم کے قطروں پر جب سورج کی روشنی پڑتی ہے تو ایسے لگتا ہے جیسے پھولوں پر موتی پڑے چمک رہے ہوں. یہ خوبصورتی تب تک ہی رہتی ہے جب تک کے باغ میں دھوپ نہ آجائے پر وہ مرجانے لگتے ہیں وہ سورج کی روشنی کو زیادہ دیر تک برداش نہیں کر پاتے تم نے دیکھا ہے کچھ دیر بعد پھولوں کی پتیوں پر داغ سا پڑنے لگتا ہے. بیٹیاں بھی بلکل پھول کی طرح ہوتی ہیں ناں. اپنے بابا کے انگن میں بلکل پھول کی طرح ہی کھلتی ہیں. ماں باپ کا پیار بھی ان پر شبنم کے قطروں کی طرح روشن ہوتا ہے ان کی مسکراہٹ کو بڑھاتا ہے اور وہ پھول جیسے ہوا کے جھونکے سے لہلہاتا ہے ایسے ہی وہ بھی خوشی سے لہلہاتی ہیں. لیکن جیسے دھوپ کی تپش پڑنے سے پھول مرجھا جاتا ہے ناں ایسے ہی جب ان پر کسی اور کا سایہ پڑتا ہے نہ وہ مرجھا جاتی ہیں. شوہر سے پڑی ہوئی مار کے نشان ان کے منہ پر بھی ایسے ہی چمکتے ہیں جیسے پھول پر مرجھا جانے کے بعد داغ کی طرح دبے نظر آتے ہیں
بلکل ویسے ہی.پھول مرجھا جانے کے بعد کچھ دیر تک تو پودے کی ٹہنی کے ساتھ لگا رہتا ہے پھر پتیاں گاس پر بکھرنے لگتی ہیں. بلکل ویسے ہی بیٹیاں شوہر کی مار کھانے سے بکھرنےلگتی ہیں اور پتا ہے وہ کب زمین بوس ہونے لگتی ہیں جب میکے والے کہتے ہیں کہ چاہے مرے یاں جیٔے وہاں ہی رہنا ہو گا ہمارے در کی امید نہ رکھنا بیاہ دیا بس اب سسرال والوں کی ہو جو مرضی ہوجائے وہاں ہی خوش رہو تب ہوتی ہیں زمین بوس……….
بابا میں تو کلی ہوں آپ کے آنگن کی
داغ لگ گئے ہیں کلی کو اب ہے جلد
مرجانے کو……..

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں