موبائل اور ہم سے جڑے رشتے(مقدس بانو)

موبائل پر رینگ ہوتی ہے. یار روکیں خاموش ہو ایک منٹ گھر سے فون آرہا ہے.
ہیلو جی امی. امی کیا ہوا ہے کیوں رو رہی ہیں.
بتائیں. کیا ہوا ہے. بیٹا بیٹا، امی جی بولیں کیا ہوا ہے.
تمھاری بہن
کیا ہوا میری بہن کو
امی کیا ہوا
بیٹا سول ہسپتال آجا
امی ہوا کیا ہے
تو جلدی سے آ جا
یار میں جا رہا ہوں
کیا ہوا اتنا پریشان کیوں ہے
یار ہسپتال جانا ہے
کیا ہوا ہے. پتا نہیں یار چل پھر ملتے ہیں.
ہسپتال پہنچ کر امی جی کیا ہوا بہن کو امی جی روتی ہوئی تیری بہن نے خودکشی کی کوشش کی ہے.
کیا …….یا خدا کیوں کیا ایسا
اب کیسی ہے اور ڈاکٹر نے کیا کہا
آپ کہاں تھی بیٹا میں باہر کام کر رہی تھی
آواز دی بیٹے باہر آو کوئی جواب نہیں آیا میں کافی آوازیں دی اندر آکر دیکھا تو…….
امی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں. اتنے میں ڈاکٹر صاحب بابر آے.
اب بہتر ہے اللہ کا شکر ادا کریں لیکن پولیس کو بلانا پڑے گا.
امی نہیں ہماری عزت کا سوال ہے.
ڈاکڑ، نہیں ماں جی لیکن پولیس کو بتا نا لازمی ہے.
وہ تو اللہ بھلا کرے ابا جی کے جاننے والے پولیس میں تھے تو بات رفع دفع ہو گئی .
بہن کو گھر لایا گیا. کچھ دن تو کسی نے بات نہ کی ایک رات سب کمرے میں آے اور پوچھا تم نے ایسا کیوں کیا. کیا کمی تھی ہمارے لاڈ پیار میں ارم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی. میں جب صبح کالج جاتی ہو تو میں بھائی سے کہتی ہوں چھوڑ آئیں. بھائی فون میں لگا رہتا ہے نہیں جاتا. کالج کے راستے میں لڑکے کھڑے ہوتے ہیں وہ ایسے گھور گھور کر دیکھتے ہیں. واپسی پر بھی میں بھائی کو کال کرتی ہو یہ فیسبک پر تو ایکٹو ہوتا ہے لیکن میری کال نہیں اٹھاتا. اس دن وہ لڑکے آوازیں کسنے لگ گئے تھے میں بہت ڈر گئی تھی پھر تھوڑی دیر بعد میں محسوس کیا کہ کوئی پیچھے آرہا ہے مڑ کر دیکھا تو وہ لڑکے ہی پیچھے آرہے تھے میں رونے لگی اور بھاگ کر روڈ کی طرف آئی میں نے پھر بھائی کو کال کی نہیں اٹھائی. میں گھر آگئی میں بہت کوشش کی بتاو بھائی فون میں لگ جاتاہے اور اس دن بھائی کوئی بات کر رہا تھا اس سے میں سمجھ گئی تھی کہ اگر میں بتاوں گی تو بھی اس معاشرے میں قصور صرف لڑکی کا سمجھا جاتا ہے میں اگر بتاو گی تو شاید بھائی کالج چھڑوا دیں گے کہ تمھاری غلطی ہے پر میں پڑھنا چاہتی ہو. میں تنگ آگئی تھی مجھے بہت ڈر لگتا تھا ان لڑکوں سے اس لیے سب کے سامنے بتا کر شرمندگی سے بچنے کے لیے میں نیند کی گولیاں کھا لی. جب بات مکمل کر کے سر اٹھا کر اس نے سب کی طرف دیکھا تو کونے میں کھڑا بھائی اس وقت زمین پر بیٹھا رو رہا تھا.
اپیل ہے کہ موبائل کا استعمال ممنوع نہیں لکین اپنے سے جڑے رشتوں کو بھی دیکھیں کہی وہ اپنی موت آپ تو نہیں مر رہے انھیں آپ کی ضرورت تو نہیں. معاشرہ تب بدلےگا جب ہم سوچ کا زاویہ تھوڑا بدلیں گیں ایسے ماحول کو پڑوان چڑھائیں جس میں بیٹیاں کسی ڈر خوف کے اپنی بات آپ تک پہنچا سکیں. شکریہ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں