رانی اور مسجد کا دروازہ (تحریر:مقدس بانو)

رانی آج گلی ملک اعظم والی میں محفل سجانی ہے. اس گلی میں کیا ننھا مہمان آیا ہے یا کسی کی شادی ہے. رانی ننھے مہمان کی آمد ہوئی ہے کھاتے پیتے گھر والے ہیں بابا حیدر نے بتایا تھا اور پتا بھی لکھ دیا ہے. چل تیار ہو جا جلدی سے آج کا بس یہ ہی ایک گھر ہے جہاں سے پیسے مل سکتے ہیں. اٹھ جا اب.
آئی تیار ہو کہ تو چل
باقی سب کو بھی کہہ تیار ہو جائیں.
ٹھیک دس سے پندرہ منٹ بعد سب تیار ہو گئے اور اپنے سفر پر نکل گئے. گھر تھوڑی دور تھا لیکن بابا حیدر کے لکھ کے دیے ہوئے پتے سے آسانی رہی پہنچ کر دروازہ کھٹکایا کوئی نہیں آیا کافی دفعہ دستک دی لکین کوئی نہیں آیا سب وہاں ہی سیڑھیوں پر بیٹھ گئے. کافی دیر بعد دروازہ کھولا سب کھڑے ہو گئے. بھائی صاحب بہت مبارک ہو. کڑیوں بجاو ڈھول رقص کروکوئی. ڈھول کی تھاپ شروع ہوگئی. اس گھر کا فرد بولا اوے چلو چلو یہاں سے جاو کیا تماشا لگایا ہوا ہے تم لوگوں کا کام ہی یہ ہے شریف گھروں کے دروازوں پر تماشا لگا لیتے ہو. رانی بھائی خوشی کا موقع ہے. ہم بھی خوش ہوں گے کچھ عنایت کریں ہم بھی آپ کی خوشی منانے آئےہیں. یہ لو! پچاس کا نوٹ پیھنک کر آدمی بولا اب چلو نکلو یہا ں سے. بھائی اس میں کیا ملتا ہےآج کل. چلو چلو نکلو کہی اور جاو جا کے رقص دیکھاو نکلو یہاں سے آجاتے ہیں پتا نہیں کہاں کہاں سے. بھائی دعا لگے گی. ہاں تم لوگ ہی ہو جن کی ہمیں دعا لگنی ہے. اتنی لگتی ہوتی تو اپنے لیے کر لو کہ یا عورت بن جاو یا مرد. چلو نکلو یہاں سے اب نہ بجانا دروازہ. آدمی دروازہ بند کر کے چلا گیا. رانی رونے لگی یا اللہ کیوں ہم بھی تیرے بندے ہیں سب نے آگے بڑھ کر رانی کو چپ کروایا اور واپسی کے لیے روانہ ہو گئے. واپس آکر سب رقص کی پریکٹس کرنے لگے رانی باہر کسی کام کا کہہ کر نکل گئی قریب ہی مسجد کے دروازے کے پاس سے گزرنے لگی دیکھ کر روک گی اور مسجد کا گنبد دیکھ کر رونے لگی. امام صاحب محلے کے بچوں کو سپارہ پڑھا کر باہر آرہے تھے. رانی کو روتا دیکھ کر رک گئے. بیٹاکیا ہوا ہے. رانی نے سر اٹھا کر دیکھا مولوی صاحب کیا اوپر والا ہمارا بھی خدا ہے. مولوی صاحب نے جواب دیا وہ سب کا خدا ہے رانی بولی ہم سب کو لوگ تانے دیتے ہیں گالیاں دیتے ہیں ہماری کوئی عزت نہیں کرتا کوئی ہمیں نہیں پوچھتا. ہمارا کیا قصور ہے. مولوی صاحب بولے بیٹا اس اوپر والے کا ہاتھ پکڑ لو وہ کسی کو گرنے نہیں دیتا اس کو تھام لو تو دنیا اور آخرت سنور جاتی ہے ہر کسی کا دروازہ بجاتے ہو کبھی اس خدا کا کھٹکایا ہے. اس کو آواز دیکر تو دیکھو. رانی بولی کوئی مسجد میں آنے ہی نہیں دیتا بیٹا آو میرے ساتھ رانی چلی گئی. مولوی صاحب بولے کبھی نماز پڑھی ہے. نہیں کبھی جمعہ پڑھا..۔نہیں. آتی ہے نماز… نہیں. مولوی صاحب بولے آو پڑھو پہلے اول کلمہ رانی پڑھنے لگی. مولوی صاحب بولے بیٹااس رب کا بس دروازہ روز کھٹکایا کرو باقی کاوسیلہ وہ خود بنا دے گا رقص کی پریکٹس چھوڑ کر روز پانچ وقت کی نماز کی پریکٹس کرو. رانی بولی رزق کا کیا ہو گا کھانے کو کون دےگا مولوی صاحب کہنے لگے بس اوپر والے پر چھوڑ دو. کچھ دن میں ہی رانی نے نمازسیکھ لی اور پڑھنے لگی. ایک روز ایک آدمی آیا مسجد میں رانی کو دیکھ کر مسکرایا اور نماز کے بعد پاس جا کر کہا کوئی کام کرتے ہو رانی نہیں بس مسجد میں رہتی ہو کوئی روٹی دے جائے تو کھا لیتی ہو. آدمی بولا میرے دفتر میں ایک گارڈ کی ضرورت ہے تم کام کرو گی رانی رونے لگی اور سجدے میں گر گئی.
وہ اوپر جو ہے وہ ہی سب ہے. کتنی رانیاں ہیں جو مسجد اس لیے نہیں جا سکتی کیونکہ کہ ہم انھیں ناپسند کرتے ہیں کہ وہ ہم سے الگ ہیں ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی اس خدا کے پیداکردہ ہیں جس نے ہمیں پیدا کیا ہے. براہ کرم اگر مدد نہیں کر سکتے تو ان کی مشکلات میں بھی اضافہ نہ کریں. خود بھی جیٔں اور دوسروں کو بھی جینے دیں. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں