روٹی پلانٹ سے کرونا ویکسین تک (از: افتخار احمد )

تقریباً پانچ دہائیوں کے لگ بھگ کی بات ہو گی جب پاکستان میں سوئی گیس یا ایل پی جی سلنڈر کی سہولت عام نہیں تھی زیادہ تر خواتین گھروں میں لکڑی ، کوئلہ ، برادے کی انگیٹھی ، مٹی کے تیل کا چولہا یا گوبر استعمال کر کے کھانا پکایا کرتی تھیں ، سخت سردی اور گرمی میں انہیں تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور وقت کے ضیاع کا بھی ۔اس وقت کی حکومت نے دو یا تین روٹی پلانٹ لگائے جن میں ایک فیصل آباد میں بھی نصب کیا گیا تھا جرمنی سے منگوائے گئے پلانٹ میں تیار شدہ روٹی نہایت لذیذ تھی ، پانچ روٹی کے پیکٹ مختلف دوکانوں پر مخصوص ڈبوں میں کمپنی کی گاڑی ڈال دیتی تھی جہاں سے گاہک دوکاندار کو پیسے دے کر روٹی لے لیتے تھے کمپنی کی گاڑیاں دن میں متعدد بار تازہ روٹی فراہم کرتی رہتی تھیں ،بعض مقامات پر سائیکلوں کے ذریعہ گھروں تک ڈلیوری پہنچانے کا انتظام بھی تھا.
پلانٹس کی استعداد اتنی زیادہ تھی کہ فیصل آباد کا پلانٹ دوسرے کئی شہروں میں بھی روٹی فراہم کرتا تھا یوں خواتین کی کثیر تعداد نے سکھ کا سانس لیا کہ ان کی مشقت بھی کم ہوئی اور وقت بھی ۔ روٹی کم قیمت تھی جس کا نقصان نان بائیوں اور تندور والوں کو ہوا ، قبل اس کے کہ یہ سلسلہ ملک کے دوسرے شہروں میں بھی پھیلتا چند مذہبی جماعتوں نے شور وغل مچا دیا کہ پلانٹ سے سپلائی ہونے والی روٹی میں خاندانی منصوبہ بندی کی ادویات شامل ہیں جس سے بچے پیدا نہیں ہونگے حکومت نے اپنے سعی بہت کوشش کی کہ اس پروپیگنڈے کی حوصلہ شکنی کر سکے مگر کامیابی حاصل نہ کر سکی اور روٹی پلانٹ جو انتہائی کامیابی سے چل رہے تھے ناکام ہو کر بند ہو گئے تندوروں اور نان بائیوں کا کاروبار پھر سے عروج پر پہنچ گیا جبکہ خواتین پھر سے پھونکنی پکڑ کر چولہے کے آگے بیٹھ گئیں ۔ کچھ ایسا ہے آج کل کرونا ویکسین کے ساتھ ہو رہا ہے خصوصاً یورپ میں روزانہ سینکڑوں لاشیں دفنانے والے خوش تھے کہ کرونا ویکسین کی دستیابی سے ان کے خصوصاً بزرگ ، دیگر اور وہ خود اس جان لیوا وباء سے بچ پائیں گے کہ افواہوں کی تازہ لہر نے ان کی خوشیوں پر اوس ڈال دی ، خبریں گردش میں ہیں کہ ویکسین کی تیاری میں حرام جانوروں کے اجزاء شامل ہیں جس سے کم از کم مسلمان اس شش وپنج میں مبتلا ہو رہے ہیں کہ آیا وہ اس ویکسین سے استفادہ حاصل کریں یا موت کے فرشتے کی آمد کا انتظار کریں ؟ یہ جانتے ہوئے بھی علماء کرام سے رائے طلب کی جا رہی ہے کہ علماء کرام کی بہت سی تعداد یورپ میں ایسی موجود ہے جو دینی علم تو یقیناً بے پناہ رکھتے ہیں
مگر سایئنس اور میڈیسن سے وابستہ جدید ٹیکنالوجی کو نہیں سمجھتے ، ایسے میں کوئی چند ایک الٹے سیدھے فتوے سامنے آ گئے تو نتائج جان گنوانے کے بھگتے جا سکتے ہیں پانچ دہائی قبل تو صرف سستی روٹی سے ہاتھ دھونا پڑے تھا شاید اب کی بار جان سے ہاتھ دھونا پڑیں ، اللہ و تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے کہ !
اے ایمان والو اپنی جانوں کی حفاظت کرو ( القرآن) یقیناً محترم جید علماء کرام اس آیات کریمہ کی بہترین تشریح فرما کر لوگوں کی زندگیاں بچانے میں اپنا اعلیٰ کردار ادا کریں گے ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب پر اپنا رحم و کرم فرمائے اور ہمیں اس موذی وباء سے نجات دلائے ۔ آمین ثم آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں