گجرات میں کورونا کے مجموعی 1518 کیسز،38 اموات

گجرات(رپورٹ:عارف علی عارف)کورونا کیسز میں اضافہ،گجرا ت میں ماسک پہننا لازمی قرار،ایک دن میں 33مزید افراد میں وائرس کی تصدیق،کورونا کی ادویات غیر موثر قرار،ماسک نہ لگانے والوں کوسزائیں دینے کا فیصلہ،پنجاب میں مرد عالمی وباء سے زیادہ متاثر ہوئے۔تفصیلات کے مطابق گجرات میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے حکومت پنجاب کے احکامات کی روشنی میں پبلک مقامات میں ماسک پہننا لازمی قرار دیدیا ہے اور فیس ماسک نہ لگانے والے افراد کو چوبیس گھنٹے کیلئے زیر حراست رکھا جاسکے گا جبکہ سنگین نوعیت کی خلاف ورزی کی صورت میں زیر دفعہ 188ت پ فوجداری کاروائی بھی عمل میں لائی جاسکتی ہے اس مقصد کیلئے انتظامی اور پولیس افسران کاروائی کے لئے مجاز ہونگے۔ ڈپٹی کمشنر گجرات کیطرف سے پنجاب انفکشیس اینڈ ڈیزیز (تحفظ و کنٹرول) آرڈینینس کی شق 22کے تحت جاری نوٹیفکیشن کے تحت تمام شہری پبلک مقامات پر، دوران سفر، سرکاری دفاتر، پرائیویٹ کاروباری مقامات پر فیس ماسک استعمال کرنے کے پابند ہونگے۔ گجرات میں گزشتہ چوبیس گھنٹے میں 33مزید مریضوں کا اضافہ ہوا ہے گجرات میں اب تک کل 10742افراد کے کورونا ٹیسٹ کئے گئے ہیں جن میں سے 8231کی نیگیٹو، 1518کی پازیٹو،600باقی،474صحت یاب اور 1006آئسولیشن وارڈزیا ہوم آئسولیشن میں ہیں جبکہ 38کنفرم مریضوں سمیت 65خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔ادھر ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران کورونا کی ادویات کو غیر موثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پلازمہ‘ ڈیکسا میتھاسون‘ ایکٹمرا کورونا کا علاج نہیں‘ہائی ڈرو کسی کلوروکوئین کی افادیت نہیں‘ نقصان زیادہ ہیں اورپلازمہ صرف ایک تجربہ ہے۔پلازمہ سے صحت یاب ہونے کے کوئی حتمی نتائج نہیں آئے‘ خواہش پر نہیں لگایا جائے گا پلازمہ سے ایک شخص میں دوسرے میں وائرس منتقلی کا بھی خطرہ ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ کم علامات والے مریضوں میں ڈیکسامیتھاسون کے استعمال کے نتائج اچھے نہیں آئے۔محکمہ صحت کی جاری رپورٹ کے مطابق پنجاب میں کورونا وائر س سے مرد زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور مجموعی کیسز میں 45ہزار مرد اور 20ہزار سے زائد میں عالمی وباء کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ زندگی کی بازی ہارنے والوں میں 71فیصد مرد اور 29فیصد خواتین شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں