ملک میں 65 ہزار شناختی کارڈ جعلی نکلے، پنجاب پہلے نمبر پر

اسلام آباد(جے ایم ڈی)سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت داخلہ نے انکشاف کیا کہ ملک میں کل 65 ہزار جعلی شناختی کارڈ پائے گئے، پنجاب سب سے آگے ہے، پنجاب میں 20 ہزار 865، سندھ میں 15 ہزار 579، کوئٹہ میں 11 ہزار 859، خیبرپختونخوا میں 10 ہزار 884، فاٹا میں 3 ہزار 834، اسلام آباد میں 1087 اور آزاد کشمیر میں 832 جعلی شناختی کارڈ پائے گئے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ ر یڈ زون میں کسی کو احتجاج یا دھرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، الیکشن فارم میں تبدیلی کے معاملے پر ایک گروپ نے فیض آباد میں پڑاؤ ڈال رکھا ہے، ان کے ساتھ بات چیت جاری ہے، امن و امان کے قیام اور لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے کچھ سڑکیں بند کی گئی ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت 65 تنظیموں پر ملک میں مکمل پابندی ہے اور 6 تنظیموں کو نگرانی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا سابق صدور، سابق وزرائے اعظم اور سابق چیف جسٹسز کو مکمل سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے۔ سابق صدر مملکت کو ایک سب انسپکٹر اور چار ماتحت اہلکاروں پر مشتمل دو گاڑیوں کا سکواڈ فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ سابق وزرائے اعظم کو بھی اسی طرح سکیورٹی دی جاتی ہے۔ ریٹائرڈ چیف جسٹس صاحبان کو ان کی رہائش گاہ پر دن رات ایک گن مین کی سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور تینوں سروسز چیفس کی ریٹائرمنٹ کے بعد سکیورٹی کی فراہمی وزارت دفاع کی ذمہ داری ہے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف نے دہشتگردی کے خلاف جنگ فرنٹ فٹ پر لڑی، انہیں سکیورٹی دینا ہمارا فرض ہے، جے آئی ٹی کے ارکان کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے بچے بھی سبزی خریدنے جاتے ہیں تو رینجرز کی ایک گاڑی بھی اْن کے ساتھ ہوتی ہے۔ طالبان رہنما ملا اختر منصور کو جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کرنے والے اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی، ایک ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر ملازمت سے برطرف کیا گیا، کئی گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ اسلام آباد کی ہر یونین کونسل اور سیکٹر میں ایک چھوٹا واٹر فلٹریشن پلانٹ نصب کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔وزارت اطلاعات نے ایوان کو بتایا کہ پیمرا نے 2013ء میں صرف دو ٹی وی چینلز کو لائسنس جاری کئے۔ پریذائیڈنگ افسر طاہر مشہدی نے 9سوالوں کے جواب نہ آنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارتیں جواب کیوں نہیں دیتیں۔ اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ متعلقہ وزارتیں نااہل ہیں، اگر وزرا جواب نہیں دے سکتے تو استعفیٰ دے دیں۔ یہ اس ایوان کے تقدس کی پامالی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں