قوم کے اربوں کھانے والوں کوکوئی ہاتھ نہیں لگاتا، سندھ ہائیکورٹ

کراچی(جے ایم ڈی ) چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ احمد علی شیخ کا کہنا ہے کہ اب کیا 2,2 لاکھ روپے کی کرپشن کرنے والوں کو پھانسی دیں گے اورجو قوم کے اربوں روپے کھاگئے انہیں تو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا۔سندھ ہائی کورٹ میں ضلع خیرپورمیں ڈرینج اورسی سی بلاک کی 613 اسکمیوں کے نام پر1 ارب 70 کروڑروپے کی کرپشن کی سماعت ہوئی، ایگزیکیوٹو انجنیئر احمد، سیف اللہ میمن اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔نیب تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ایگزیکٹیو انجنیئراحمد ابڑو نوٹس کے باوجود شامل تفتیش نہیں ہورہے، جن ملزموں کی 2 لاکھ روپے کی کرپشن کی ہے وہ بھی پیش نہیں ہوتے۔ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ احمد علی شیخ نے ریمارکس دیئے کہ کیا اب 2,2 لاکھ روپے کی کرپشن کرنے والوں کو پھانسی دیں گے؟ جو قوم کے اربوں روپے کھاگئے انہیں تو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا، جوافسرشامل تفتیش نہیں ہوتا اس کو جیل بھیج دیا جائے۔نیب تفتیشی افسرکی جانب سے کہا گیا کہ ملزموں نے جوترقیاتی کام کیے وہ چند دنوں میں ہی خراب ہوگئے، ملزموں نے سرکاری افسران کی ملی بھگت سے منصوبوں میں ناقص میٹریل استعمال کیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ شہرآپ کے اپنے ہیں، گندگی سے کرپشن کرنے والے بھی گزرکرجاتے ہیں، اگرمنصوبوں پرٹھیک کام ہوگا تودوسروں کے ساتھ آپ کے بچے بھی بیماریوں سے محفوظ رہیں گے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 21 دسمبر تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں