حدیبیہ کیس دوبارہ شروع ہونے کی وجوہات

لاہور(جے ایم ڈی )حدیبیہ کیس دوبارہ اس لئے کھولا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ کا 28 جولائی 2017 کا اور اس سے پہلے اپریل کا جو فیصلہ آیا، اس دوران جب جج صاحبان نے نیب سے پوچھا کہ یہ کیس جب آیا تھا تو یہ کس کا کیس تھا اور آپ نے اس میں اپیل کیوں نہیں کی تو اس وقت کے چیئرمین نیب نے کہا کہ مجھے پراسیکیوٹر جنرل نیب نے مشورہ دیا تھا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ یہ 15 سال پرانا کیس ہے، حالانکہ نیب کے پاس اس سے بہت پرانے کیسز پڑے ہیں لیکن اس کیس کی حد تک انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے اپیل نہیں کی، اب جبکہ نیب نے دوبارہ اپیل داخل کی ہے تو اس میں انہوں نے ایک وجہ بہت اہم بتائی ہے کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات کے دوران اتنا زیادہ مواد اور بھی سامنے آیا ہے جس کی بنیاد پر اس کی مزید چھان بین اور میرٹ پر ٹرائل کی ضرورت ہے۔1994۔95 میں ایف آئی اے نے دو ایف آئی آرز کاٹی تھیں، جن کی بنیاد پر یہ کیسز شروع ہوئے تھے، اس کے بعد نیب کا ادارہ بنا، جب یہ کیسز نیب کے پاس آئے تو نیب نے اس پر انکوائری کی۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی انکوائری کی ہوئی تھی اور یہ تمام بینک ریکارڈز جس میں مختلف ٹرانزیکشنز تھیں۔ 2.23 ملین ڈالرز جو 1991۔92 میں ٹرانسفرہوئے تھے ، پاکستان سے اس وقت اسحاق ڈار نے ٹرانسفرکرائے تھے۔برطانیہ پیسہ بھیجنے کیلئے اسحاق ڈارنے جعلی اکاؤنٹس کھلوائے ، مسعود قاضی،مختاراورسعید خان کے اکاؤنٹس کے ذریعے پیسہ ٹرانسفر ہو کر برطانیہ جاتا رہا۔ 1991میں جب یہ پیسہ برطانیہ گیا تو اس کے بعد اقتصادی اصلاحات کی گئیں اور بننے والے نئے قوانین کے تحت یہ پیسہ حدیبیہ پیپر ملز، حدیبیہ انجینئرنگ، چودھری شوگر ملز، رمضان شوگر ملز اور حمزہ بورڈ انجینئرنگ کے اکاؤنٹس میں واپس آگیا، اس پیسے کی بنیاد پر انہوں نے اپنے مفاد میں کئی دیگر اکاؤنٹس چلائے۔ شریف فیملی کے افراد ان کے بینی فیشل اونرزتھے۔ ان ہی کمپنیوں نے بعد میں بہت زیاد ہ قرضے لئے جو پھر معاف ہوگئے، اس کا بھی ریکارڈ نہیں ہے۔ اسحاق ڈار کے اعترافی بیان میں دئیے گئے حقائق ثابت شدہ اور دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے اپریل 2017 کے فیصلے میں تفصیل سے لکھا ہے کہ کیس کا ایک پوائنٹ بھی میرٹ پرانویسٹی گیٹ نہیں ہوا، اس کے کسی گواہ کوچھیڑا تک نہیں گیا، اس کے کسی ثبوت پربات ہی نہیں کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں