انگلینڈ: انتہائی متاثرہ علاقوں میں ہر 25 افراد میں سے ایک بے گھر

لندن(جے ایم ڈی)ایک نئی سٹڈی سے ظاہر ہوتا ہے کہ انگلینڈ کے انتہائی متاثرہ علاقوں میں ہر25افراد میں سے ایک شخص بے گھر ہے۔بے گھر افراد کی چیریٹی شیلٹر نے کہا ہے کہ انگلینڈ بھر میں 268,000 سے زائد افراد بے گھر ہیں حالانکہ یہ تعداد انتہائی محتاط تخمینہ ہے اور توقع ظاہر کی گئی ہے کہ بے گھر افراد کی ایک بڑی تعداد کو ریکارڈ میں شامل نہیں کیا جا سکا۔اس کا کہنا ہے کہ لوگوں کے بے گھر ہونے کی بڑی وجہ ’’نجی کرایہ داری‘‘ ہے۔ سروے میں ہر10کیسز میں سے تین بے گھر پائے گئے۔حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بے گھر ہونے کی ہر قسم کا خاتمہ کرنے کے لئے ثابت قدمی سے اقدامات کر رہی ہے۔ شیلٹر نے فرنٹ لائن سروسز کے لئے رقم اکٹھی کرنے کے لئے ہنگامی اپیل جاری کی ہے۔ قانون کے تحت بے گھر افراد میں سڑکوں اور پارکوں پر سونے والے، ہاسٹلوں میں رہنے والے تنہا افراد اور عارضی رہائش گاہوں میں مقیم لوگ شامل ہیں۔شیلٹر کا کہنا ہے کہ اس تعریف کے تحت انگلینڈ میں ہر206 افراد میں سے کم سے کم ایک بے گھر ہے۔ ایک تخمینہ کے مطابق تقریباً4100 افراد سڑکوں پر سوتے ہیں اور کم از کم242,000 افراد عارضی رہائش گاہوں میں مقیم ہیں۔ مزید21,000 افراد یا تو ہاسٹلوں میں رہ رہے ہیں یا پھر وہ سوشل سروسز کی جانب سے فراہم کردہ مکانات میں عارضی بنیادوں پر مقیم ہیں۔ملک میں سب سے زیادہ بے گھر افراد لندن میں ہیں۔31 بدترین مقامات پر بشمول نیوہام بورو میں ہر25 میں سے ایک شخص بے گھر پایا گیا۔ دیگر کئی مقامات پر بھی دباؤ پایا گیا۔لیوٹن میں ہر52میں سے ایک شخص بے گھر ہے۔ برائٹن میں69 افراد اس کیٹیگری میں شامل تھے جبکہ برمنگھم میں88 افراد میں سے ایک بے گھر ہے۔عارضی رہائش گاہوں میں مقیم افراد کی تعداد2011 میں35,850 تھی جو کہ2017ء کے آغاز میں بڑھ کر 54,280 تک جا پہنچی۔شیلٹر نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ عارضی رہائش گاہوں میں2017ء کے آغاز میں جو افراد مقیم تھے ان میں سے35 فیصد گھرانے تقریباً ایک سال گذر جانے کے باوجود ناقابل انحصار گھروں میں رہ رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں