وزیراعظم کی سفارت کاروں پر شدید گولہ باری(تحریر: افتخار احمد جرمنی)

یکم فروری 2021ء کو حکومت پاکستان کی طرف سے اچانک مینوئل ویزے پر پابندی عائد کرنے کے اعلان سے پوری کیمونٹی اضطراب کا شکار ہوئی خصوصاً وہ احباب جنہیں ایمرجنسی میں پاکستان کا سفر کرنا تھا پریشان حال نظر آئے ، احتجاجات کا سلسلہ اس وقت تھما جب سفارتخانے اور قونصل خانے نے ایمرجنسی ویزے کے فوری اجراء کی نوید سنائی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے دورہ جرمنی کے اختتام پر برلن میں سفیر پاکستان ڈاکٹر محمد فیصل نے سفارت خانے میں عرضی نویس ڈیسک کی اوپننگ کر کے ان افراد کے لئے آسانیاں پیدا کر دیں جو ازخود گھر بیٹھ کر آن لائن ویزہ اور POC اپلائی نہیں کر سکتے تھے بعد از فرینکفرٹ قونصلیٹ میں قونصل جنرل زاہد حسین صاحب نے بھی یہی سہولت مہیا کرتے وقت واضع کیا کہ حکومتی وسائل مہیا ہونے کے بعد سہولیات کا دائرہ وسیع کیا جائے گا ۔ گزشتہ روز زاہد حسین صاحب سے اس سلسلہ میں بات چیت ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ سٹاف کی کمی کیمونٹی کو مزید سہولیات فراہم کرنے کے راستے میں حائل ہو رہی ہے ہمارے ایک سٹاف ممبر کی اچانک وفات کے بعد ان کی جگہ پر ڈیوٹی سر انجام دینے والے کو سیکھنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا ایک اور سٹاف ممبر آنکھوں کی بیماری میں مبتلا ہوئے ہیں شعبہ پاسپورٹ میں لمبا عرصہ خدمات سر انجام دینے والے آفیسر بھی جلد واپس جانے والے ہیں جتنی دیر ان کا متبادل نہیں پہنچتا کام موجودہ سٹاف نے ہی نپٹانا ہے بظاہر اضافی زمہ داریاں زیادہ تر قونصل جنرل اور ہیڈ آف چانسری شیعیب منصور صاحب کو ہی ادا کرنا ہونگی یاد رہے کہ یہ وہ وقت ہے جب کرونا وائرس کے خوف سے جرمن سمیت دیگر ممالک کے سفارت خانے اور قونصل خانے زیادہ تر گھر یا آفس میں اکیلے بیٹھ کر دفتری کام نپٹا رہے ہیں جرمنی کا پاسپورٹ بنوانے کے لئے بذریعہ ای میل یا فون پر اپوائنٹمنٹ چھ ہفتے سے قبل نہیں مل رہی پاسپورٹ کے بننے کا عمل بعد میں شروع ہونا ہے جبکہ ہماری قونصلیٹ آج بھی یہ سہولت بغیر اپوائنٹمنٹ کے فوری طور پر مہیا کر رہی ہے سفارت خانے میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے کم از کم اس معاملے میں اپنے سفارت خانے اور قونصل خانے کے سٹاف کی خدمات کو نہ سراہنا زیادتی ہو گی ۔زاہدحسین صاحب نے بتایا کہ وہ خود کو قونصل جنرل کے بجائے کیمونٹی کا ہی حصہ سمجھتے ہیں جائز مسائل کو وہ سمجھتے ہیں قونصلیٹ کی ویب سائٹ پر جو معلومات انگریزی زبان میں دی گئی ہیں جہاں تک ممکن ہوا انہیں اردو میں کیا جائے گا کیمونٹی کی فون پر معلومات فراہم کرنے کی شکایت پر ان کا کہنا ہے کہ یہ وہ شکایت ہے جسے دور کرنے کے لئے ایک کل وقتی سٹاف ممبر کی ضرورت ہے جسے پہلے مکمل معلومات زہن نشین کرائی جائیں جبکہ ہمارے پاس پہلے ہی سٹاف کی کمی ہے ساری صورتحال وزارت خارجہ کے سامنے رکھی جا رہی ہے جیسے جیسے سٹاف بڑھتا جائے گا شکایات کا ازالہ ہوتا جائے گا ۔
گزشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان نے ایک ویڈیو لنک کے ذریعے سفارتکاروں پر شدید گولہ باری کی انہیں ان کے انداز اور فرائض اس طریق سے یاد دلائے کہ اوور سیز پاکستانیوں سے کہیں زیادہ بھارت کا میڈیا بھی جھوم اٹھا بہت سے کیمونٹی کی خدمت کرنے والے سفارتکار بھی وزیراعظم کے حملے کی زد میں آئے بھلا ہو وزیراعظم صاحب کا کہ کچھ ہی دنوں بعد سابقہ روایات کو مد نظر رکھتے ہوئے انہوں نے یو ٹرن لے کر اپنے بہت سے الفاظ واپس لئے جس کے بعد سے اب تک محاز پر خاموشی طاری ہے ۔وزیراعظم صاحب سے درخواست ہے کہ آپ نے جو کہنا تھا کہہ چکے اب کچھ ہماری بھی سن لیں ماسوائے چند سفارت خانوں کے دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کی حالت زار ویسی ہی ہے جیسی پاکستان میں معشیت کی ، شکستہ عمارتیں ، پھٹیچر فرنیچر ، ناکارہ آلات اور سٹاف کی کمی کو پورا کرنے کے لئے آنے والے بجٹ کا حصہ بنائیں جب تک بنیادی کام درست نہیں ہونگے مسائل جوں کے توں رہیں گے ۔فرینکفرٹ قونصلیٹ کی مثال سامنے رکھوں تو پرانی بلڈنگ جس میں سٹاف ممبران کی گاڑیاں کھڑی کرنے کی جگہ تک نہیں ہے اور نہ ہی قریب کوئی پارکنگ پلاٹس، قونصلیٹ میں آنے والا ہر شخص یا تو میلوں دور گاڑی پارک کرے گا یا غلط جگہ گاڑی پارک کر کے جرمانہ ادا کرے گا ، کیمونٹی سروسز کے لئے بلڈنگ کی بیسمنٹ کا انتخاب کیا گیا ہے جو زمانہ قدیم کے کسی سرکاری پرائمری سکول کی یاد دلاتا ہے ، انتہائی کم جگہ سٹاف کے بیٹھنے کی جگہ مرغی کے ڈربوں سے زیادہ بڑی نہیں ، سردیوں میں سخت سرد اور گرمیوں میں سخت گرم ، بوڑھے خواتین اور بچوں کی حالت زار قابل رحم ہوتی ہے اسی طرح بلڈنگ کے اوپر والی دونوں منازل پر ماسوائے قونصل جنرل کے کمرے کے کوئی ایک کمرہ ایسا نہیں جو جرمنی کے قوانین کے مطابق رقبہ رکھتا ہو ، سائلین سے کہیں زیادہ سٹاف ممبران کی حالت قابل رحم نظر آتی ہے یاد رہے کہ سوا لاکھ کیمونٹی کا بڑا حصہ قونصلیٹ میں آ کر سروسز سے استفادہ حاصل کرتا ہے علاؤہ ازیں افغانی حضرات تو تعداد میں ہم سے کہیں زیادہ ہیں وہ بھی سروسز سے استفادہ کرنے کے لئے اسی قونصلیٹ میں آتے ہیں ، دعوے سے کہا جا سکتا ہے کہ جو کوئی سٹاف آفیسر یا کیمونٹی ممبر پہلی مرتبہ قونصلیٹ میں آتا ہے اس کا ” تراہ” نکل جاتا ہے دیکھ کر کہ کیا وہ واقعی یورپین یونین کے سب سے بڑے صنعتی ملک جرمنی کے تاریخی شہر فرینکفرٹ میں موجود پاکستانی قونصلیٹ میں آیا ہے ؟
اس قونصلیٹ کو کیمونٹی کے اعتماد کو لئے بغیر قونصل جنرل برہان الاسلام اور وائس قونصل احمد امجد علی کے دور میں جب ایک عرب ملک کی وساطت سے قرضہ حسنہ کے کر خریدا گیا تھا تو پوری کیمونٹی سراپا احتجاج بنی تھی اس قرض کو آج بھی کیمونٹی مختلف سروسز میں چارجز ادا کر کے اتارنے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے مشرف دور کے اختتام پر جب دنیا بھر میں کچھ سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں گھپلوں کا انکشاف ہوا تو فرینکفرٹ قونصلیٹ کا نام بھی اس فہرست میں شامل تھا الزام بلڈنگ کی خریداری میں پیسے کھانے کا ہی تھا بعد از انکوائری معلوم نہیں کیا نتیجہ سامنے آیا مگر ایک غلط بلڈنگ کے انتخاب کی قیمت آج بھی کیمونٹی اور قونصل خانے کا سٹاف پریشانی کی صورت میں ادا کر رہا ہے ، دیگر مسائل کے علاؤہ کیمونٹی کا بنیادی مسئلہ قونصلیٹ کی عمارت فروخت کر کے کسی نئی بلڈنگ میں منتقل ہونا بھی ناگزیر ہے جس کے لئے سفیر محترم ڈاکٹر محمد فیصل اور قونصل جنرل زاہد حسین صاحبِ کو بھی کردار ادا کرنا ہو گا ، آج ابتدا ہو گی تو انشاء اللہ تعالٰی کبھی نہ کبھی منزل پر پہنچ بھی پائیں گے ۔ یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد ان کیمونٹی مسائل کی نشاندہی کرنا ہے جن کا حل صرف قونصل جنرل صاحب اور سفیر محترم ڈاکٹر محمد فیصل صاحب کے پاس ہی نہیں بلکہ پاکستان کے حکام بالا کے پاس ہے ، جب کبھی بھی پاکستان میں کوئی مشکل سامنے آئی جرمنی کی کیمونٹی بساط سے بڑھ کر سامنے آئی یقیناً وزیراعظم عمران خان جو الحمداللہ اوورسیز پاکستانیوں کی خدمات کو بہت زیادہ سراہتے ہیں سے امید کامل ہے کہ ہماری ان جائز گذارشات پر ضرور غور فرمائیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں