پولیس گردی(از: افتخار احمد .جرمنی)

ایک دن حسب معمول صبح اپنی فرم پہنچا تو خلاف توقع دروازے کے پاس دو پولیس اہلکاروں کو پریشانی کے عالم میں کھڑے دیکھا ، ان میں سے ایک لڑکی اور دوسرا لڑکا تھا دونوں نوجوان تھے ، بڑے داخلی دروازے کے ساتھ ہی نیچے کی طرف سیڑھیاں اترتی ہیں اور ان کی نظریں اسی طرف تھیں مجھے تھوڑی سی گھبراہٹ ہوئی کہ نجانے وہاں کیا چیز ہے ، میں نے انہیں صبح کا سلام کہا تو سلام کا جواب دینے کے ساتھ ہی نوجوان نے مجھے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس کوئی چھوٹا سا خالی ڈبہ ہو گا ؟ اتنی دیر میں میں فرم کا دروازہ کھول چکا تھا میں نے اس سے کہا کہ میرے پاس مختلف سائز کے استعمال شدہ ڈبے موجود ہیں اسے جو چاہیے وہ لے سکتا ہے اس نے جوتوں کے ایک خالی ڈبے کا انتخاب کیا اور باہر سیڑھیوں کے اندر اتر گیا جہاں اس کی خاتون ساتھی ہاتھ میں ایک زخمی کبوتر لئے کھڑی تھی ، معلوم ہوا کہ تیسری منزل پر رہنے والی ایک جرمن خاتون نے پولیس اسٹیشن فون کر کے اطلاع دی کہ میرے گھر کے سامنے نیچے سیڑھیوں میں ایک زخمی کبوتر پڑا ہے جو کوشش کے باوجود اڑ نہیں پا رہا لہذا اس کی رپورٹ پر وہ کبوتر کی جان بچانے آئے ہیں اس نے مجھے درخواست کی میں اس گتے کے ڈبے میں کچھ سوراخ کر دوں جس سے کبوتر سانس لے سکے ، میں نے فوری طور پر ڈبے میں چند سوراخ کر دئے اور اس سے پوچھا کہ وہ کبوتر کا کیا کرے گا ، اس نے بتایا کہ وہ اسے پرندوں کے ہسپتال پہنچائے گا جس کو صحت یاب ہونے کے بعد وہ خود ہی ہوا میں چھوڑ دیں گے ، اس دوران میں بغور ان دونوں کے چہروں کو دیکھتا رہا جن پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے دونوں نے مجھ سے ڈبے کی قیمت پوچھی میرے انکار پر وہ دونوں میرا شکریہ ادا کر کے رخصت ہوئے اور میں کافی دیر تک سوچتا رہا کہ شاید ہماری پولیس کو اس معیار تک پہنچنے میں ابھی پانچ سو سال اور درکار ہونگے ، چند سال پہلے سانحہ ساہیوال نے جس انداز سے بیچ سڑک جس طریق سے انسانیت کی دھجیاں بکھیری تھیں وہ بھلایا نہ جا سکے گا قابل افسوس یہ تھا کہ جس ریاست نے عوام کی جان کا تحفظ کرنے کا حلف اٹھایا ہوتا ہے وہ سفاک قاتلوں کی پشت پناہی کرتی نظر آئی ان سہمے ہوئے معصوم بچوں کی تصاویر آج بھی سامنے آتی ہیں تو دل کانپ جاتا ہے زمہ داروں کو سزائیں ہوتیں تو آج سانحہ اسلام آباد نہ ہوتا جس میں ایک اکیس سالہ نوجوان کی گاڑی پر اکیس گولیاں برسا کر اسے موت کی آغوش میں پہنچا دیا گیا ، الزام یہ کہ گاڑی سیاہ شیشوں والی تھی اور پولیس کے اشارے پر رکی نہیں۔ مقتول کا والد بتاتا ہے کہ اس کے بیٹے کے مطابق ایک رات قبل اس کی پولیس سے تکرار ہوئی تھی وجوہات جو بھی ہوں ایک نوجوان جسے قوم کا مستقبل کہا جاتا ہے دنیا سے گیا ، جن کا لخت جگر تھا روئیں گے وہ ساری عمر ، ماں کا کیا حال ہو گا سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے ، سات دہائیوں سے زیادہ وقت گزر گیا ہم آج بھی فرسودہ نظام کو ہانکے چلے آ رہے ہیں کراچی کا ایک پولیس افسر پانچ سو سے زیادہ قتل کر کے بھی دندناتا ہوا پھر رہا ہے یہی صورتحال دوسری جگہوں پر بھی موجود ہے نہ صرف قانون نافد کرنے والے ادارے ظالم بلکہ انصاف دینے والے بھی اندھے ہیں ، عوام کو قوانین کی آگاہی دینے والے ادارے بھی ناکام ، جب بھی ایسے سفاکانہ سانحات پیش آتے ہیں حکومت عوامی رد عمل سے بچنے کے لئے کمیٹی تشکیل دیتی ہے رپورٹس سامنے آتی ہیں پھر طاقتور ادارے کے ڈر سے ورثاء قاتلوں کو معاف کرنے کا اعلان کرتے ہیں اور وہی قاتل دوبارہ آتشیں اسلحہ ہاتھ میں پکڑے وردی پہنے پھر کسی نئے سانحے کو جنم دینے نکل پڑتے ہیں جس دن چند زمہ داران وردی والے پھانسی پر لٹکا دئے گئے دوبارہ ایسے سانحے جنم نہیں لیں گے ۔
حکومت کو چاہیے کہ جس طرح موٹر وے پولیس کے اہلکاروں کی ٹریننگ جرمنی میں دلوائی گئی تھی اسی طرح عام پولیس کی ٹریننگ بھی جرمنی ، برطانیہ یا کسی دوسرے مہذب ملک میں کروا کر پرانے ظالمانہ اور جاہلانہ نظام کو بدلنے کی کوشش کریں ۔ایسے واقعات سے پوری دنیا میں ملک و قوم کی بدنامی ہوتی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں