لال بتی (تحریر:افتخار احمد جرمنی)

خواب دیکھنا ہماری عادت ھےستر سال سے ہم عظیم مستقبل کے خواب ہی دیکھتے چلے آ رہے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ مستقبل کا تصور ہمیشہ حال سے بیگانہ کر دیتا ھے خوابوں کے علاوہ ہمیں بھولنے کی بیماری بھی ھےہمارے ساتھ جو کچھ ہوا ہم اسے بھول جاتے ہیں ہم اپنے پیچھے تباہی کی داستانیں چھوڑ آئے حتیٰ کہ ملک کے دو ٹکڑے بھی بڑی محنت سے کرڈالےمگر شاید وہ ملی المیہ بھی ہم بھول چکے چند طالع آزما جرنیلوں اور ججز نےجو کچھ اس ملک کے ساتھ کیا ہمیں وہ بھی یاد نہیں ہمیں یاد ہو یا نہ ہو کم از کم فوج یہ کبھی نہیں بھول سکتی کہ ہر بار انہیں آواز دے کر بلایا گیا اور پھر ہر بار ہی انہیں گلی کوچوں بازاروں سڑکوں اور اخباروں میں انہیں ذلیل اور رسوا کرکے واپس بیجھا گیا ہمیں یہ بھی بھول گیا کہ ہر بار ہم نے لوٹ مار ختم کرنے کے لئے مینڈیٹ دیا جبکہ ہر بار ہی ہم نے پہلے سے زیادہ لٹیرے اپنے اوپر مسلط کئے ہم نے ایک بار بھی کسی ایسے شخص کو مسند اقتدار پر نہیں بٹھایا جو گندی گلیوں میں بنے کسی تین مرلے کے مکان میں رہتا ہو جو بدبودار پانی پی کر بڑا ہوا ہو جس نے ٹاٹ پر بیٹھ کر پرائمری سکول میں تعلیم حاصل کی ہو جس کی ماں بہن یا بیٹی نے سرکاری ہسپتال میں ایڑیاں رگڑیں ہوں جس نے منزل پر پہنچنے کے لئے کئی کئی گھنٹے بسوں کا انتظار کیا ہو مگر نہیں ہم نے ہر بار انہیں ہی اپنا مسیحا جانا جو سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہوا ہو جو کئی سو کنال کے پر ستائش گھروں یا محلوں میں رہتا ہو جس نے ایچی سن یا آکسفورڈ میں تعلیم حاصل کی ہو جو شیور لیٹ مرسیڈیز جہازوں اور ہیلی کاپٹر میں سفر کرتا ہو جن کو چھینک بھی آئے تو دوبئی لندن یا امریکہ پہنچ جاتا ہو تو پھر خوابوں کی تعبیر کیا ڈھونڈتے ہو ؟ غریب کو مقدر بدلنے کے لئے احمدی نژاد کی ضرورت تھی جبکہ ہم نے امراء کو چارہ گر جانا اور اب بھی ہم بوجہ بھولنے کی بیماری دوبارہ یہی غلطی دہرانے جا رہے ہیں ستر سال ہو چکے ہم سیاست اور سیاسی کوؤں کو نہ پہچان سکے آج پاکستان میں سیاست ایک کامیاب کاروبار بن چکا ھےسرمایہ دار صنعتکار جاگیر دار علماء کرام درگاہوں کے سجادہ نشین مزاروں کے مجاور سب کے سب للچائی نظروں سے اسلام آباد کی طرف دیکھ رہے ہیں ہر اینٹ کے نیچے سے کئی کئی راہنما برآمد ہو رہے ہیں جتنا بڑا چرب زبان اور تمیز سے عاری اتنا ہی بڑا راہنما اتنے قائد کہ قوم اکیلی رہ گئی ہرناعاقبت اندیش کو زعم آگہی ہےقائدین کی بہتاب نے قیادت ہی کا فقدان پیدا کر دیا ہے کوئی ہمیں جاہل سمجھ کر تعلیم دینے کی بات کر رہا ہے تو کوئی اسلامی تعلیم اور نظام کا جھانسہ دے کر ورغلا رہا ہے تاریخ گواہ ہے کہ آج تک پاکستان کو کسی ان پڑھ جاہل شخص نے نقصان نہیں پہنچایا اسے لوٹا اور برباد کرنے کی کوشش کی ہے تو پڑھے لکھے افراد نے اسی طرح دنیا کے پیشتر اسلامی ممالک سے پاکستان کے مسلمان کہیں بہتر ہیں فی الحال اتنا کافی ہے اب بتانے کی نہیں عمل کرنے کی ضرورت ھے جوہر ایک نے خود کرنا ہے سچ یہی ھے کہ آج کا پاکستان چیلوں کوؤں اور گدھوں کے پنجوں میں جکڑا پھڑپھڑا رہا ہے ہر کوئی اسے اپنے نوکیلے پنجوں میں جکڑنا چاہتا ہے کہ اس کا بچا کھچا ماس بھی نوچ سکے جو حکمران جا چکے لٹیرے کہلوائے موجودہ کو گلی گلی میں چور کہا جا رہا ہے عدالتیں انہیں ڈان سسلی مافیا اور نجانے کیا کیا القابات سے نواز چکی ھے جو مستقبل کی حکمرانی کے خواب دیکھ رہا ہے عدالتیں اس کی شفافیت کے آگے بھی سوالیہ نشان لگا چکی ھے تو پھر سنہرے مستقبل کے خواب کیسے؟ جن لوگوں نے پوری قوم کو ٹرک کی سرخ بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے وہ خود کسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں گزشتہ دو سالوں کی سیاست نے ملک کا جتنا نقصان کر دیا وہ اگلے پانچ سال میں بھی پورا نہیں ہوگا ملک پیچھے جا چکا قوم کے ساتھ ہاتھ ہو چکا اب وہ اپنے مقدر کا رونا روتے ہوئے اگلے کئی سال مہنگائی کے طوفانوں کے مقابلے کے لئے تیار رہے مگر ساتھ ساتھ سنہرے مستقبل کے خواب دیکھنا نہ بھولے کی یہی ہماری عادت ھے اور جو اچھی یا بری عادت پڑ جائے وہ کم ہی چھوٹتی ھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں