واپڈا ملازمین کو مفت بجلی کی فراہمی ختم کرکے الاؤنس دینے کی سفارش

کراچی (جے ایم ڈی)پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے واپڈا ملازمین کو مفت بجلی کی فراہمی ختم کرکے الاؤنس دینے کی سفارش کردی۔

چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے کہا کہ دس ، پندرہ ہزار تنخواہ والے سے بل لیا جا رہا ہے ، واپڈا ملازمین کو بجلی مفت ہے ، کیا مفت بجلی ختم کرنے کیلئے وزارت نے کوئی سفارش کی ہے؟

سیکرٹری توانائی نے بتایا کہ 80 لاکھ صارفین حکومت سے بجلی پر سبسڈی لے رہے ہیں، ایک سال میں پاور سسٹم نے 1100 ارب روپے کا نقصان کیا، اگلے سال نقصان دو کھرب روپے کا ہوگا۔

رکن قومی اسمبلی نور عالم خان کی زیر صدارت اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ آئندہ اجلاس میں اگر سی ای او کے الیکٹرک نہ آئیں تو ان کو گرفتار کر کے کمیٹی میں پیش کیا جائے۔

سیکرٹری توانائی کا کہنا تھا کہ ملازمین کی فری بجلی ختم کرنے کی سفارش سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو آگاہ کریں گے، ریکوری اور سبسڈی کی مد میں پاور سیکٹر میں ایک ٹریلین سے زائد کا فرق ہے۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز میں ہر حکومت اپنے لوگ لگا دیتی ہے، ان کا کمپنی کے ڈوبنے سے کوئی نقصان نہیں۔

پی اے سی نے اس بارے میں اگلے ہفتے میں رپورٹ طلب کر لی۔ پی اے سی نے بھیرہ ریسٹ ایریا موٹروے پر غیر قانونی طور پر تعمیر کردہ فوڈ چین کو بھی کلین چٹ دے دی۔ موٹروے ریسٹ ایریاز میں زیادہ قیمتیں وصول کیے جانے کے معاملے پر چیف سیکرٹریز کوخط لکھ کر کنٹرول کرنے کی ہدایت بھی کردی۔

چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ پی اے سی کے اجلاس لائیو چلائے جائیں تاکہ عوام کو پتہ ہو ان کے نمائندے کیا بات کرتے ہیں۔

چیئر مین کمیٹی نور عالم خان نے طیبہ گل کے خط کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ درخواست دہندہ اور جس پر الزام لگا ہے دونوں کو کمیٹی میں آنے موقع دوں گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں