یورپی ممالک پاکستان کو ایک مضبوط ملک دیکھنا چاہتے ہیں :چوہدری محمد ناصر

گجرات(پ۔ر)بیلجیئم پولیس کے ایڈوائزر محمد ناصر نے گجرات پریس کلب کا دورہ کیا اور گجرات پریس کلب کی نو منتخب کابینہ کو گلدستہ پیش کر کے اورہار پہنا کر مبارکباد دی اس موقع پر انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان نے کورونا پر جو اقدامات کئے یورپی ممالک میں اسے سراہا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک میں اسے سراہا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک پاکستان کو ایک مضبوط ملک دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ افغانستان کے حالات بھی یورپی ممالک کے سامنے ہیں اس لئے وہ پاکستان کوپر امن اور مضبوط ملک بنانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں چوہدری محمد ناصر نے کہا کہ پاکستان کی پولیس یورپی ممالک سے بہتر پولیس ہے یورپی پارلیمنٹ کا ایک وفد اپریل میں پاکستان کا دورہ کرے گا اور پاکستان کے حالات کے بارے میں آگاہی حاصل کرے گا انہوں نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ کے وفد کو گجرات پریس کلب کا دورہ بھی کرنے کی دعوت دوں گا انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان کی بہتری کیلئے ہر فورم پر کام کرنا ہے انہوں نے کہا کہ یورپی ممالاک میں بلدیاتی نظام کے ذریعے لوگوں کے مسائل حل کئے جاتے ہیں اور پاکستان میں بھی مضبوط بلدیاتی نظام رائج کر کے عوام کے مسائل حل کرنا ہو گا چوہدری محمد ناصر نے کہا کہ پارلیمنٹ میں جو لوگ جاتے ہیں وہاں وہ قانو ن سازی کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ کرپشن صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یورپی ممالک میں بھی کرپشن ہوتی ہے جعلی ڈاکومنٹ بنائے جاتے ہیں جعلی ڈرائیونگ لائسنس بنائے جاتے ہیں اور جعلی لائسنس بنانے پر افسران پکڑے بھی گئے ہیں یورپی ممالک میں صحت تعلیم اور قانون کا نظام بہت مضبوط ہے حکومتی سختی کے ساتھ ٹیکس وصول کرتی ہیں اور ٹیکس کے پیسوں سے ہی عوام کو ریلیف دیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک میں توہین آمیز کارٹون بنا کر مسلمانوں کی جو دل آزاری کی جاتی ہے وہاں کے لوگ بھی اس کو نا پسندیدہ فعل قرار دیتے ہیں لیکن اس آڑ میں پاکستان میں جو احتجاج کے نام پر املاک کو جلایا جاتا ہے وہ بھی درست فعل نہیں ہے یورپی ممالک میں مقیم ہمارے اپنے لوگ ہی پاکستان کا امیج خراب کرتے ہیں یہ ہمارا چہرہ نہیں ہے ہم نے یورپی ممالک کی پارلیمنٹ میں توہین آمیز کارٹون کے حوالے سے آواز اٹھائی ہے اور یورپی پارلیمنٹ میں ہماری آواز سنی گئی ہے اور جلد اس بارے میں قانون سازی ہو جائے گی اور اس سلسلہ میں ہم نے بیلجئم کے شہر برسلز میں بھی احتجاج کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں