مسئلہ زبان (تحریر : افتخار احمد .جرمنی)

چند سال قبل کی بات ہے شام گئے فون کی گھنٹی بجی اٹھایا تو بون شہر جو کولون سے زیادہ دور نہیں سے اطلاع ملی کہ ایک بھائی جو عرصہ دراز سے بون میں رہتے تھے ان کا انتقال ہو گیا ہے نمازِ جنازہ اور تدفین کولون میں ہو گی ( کولون میں مسلمانوں کا الگ قبرستان ہے ) چونکہ اس فیملی کو زیادہ لوگ نہیں جانتے اس لئے کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت کرسکیں ۔میں نے اسی وقت ساتھیوں کو مطلع کیا الحمد اللہ اگلے روز اچھی خاصی تعداد قبرستان میں موجود تھی تدفین کے وقت جب میت لحد میں اتاری جانے لگی تو میں نے ساتھ کھڑے مرحوم کے سترہ سالہ بیٹے کو کہا کہ بیٹا لحد میں اترو اور خود اپنے والد کو قبر میں اتارو یہ لمحہ دوبارہ نہیں آئے گا وہ خاموش رہا میں نے دوبارہ اپنے الفاظ دوہرائے مگر بے سود ، اتنی دیر میں وہ عمل مکمل ہو چکا تھا جب مٹی ڈالنے کا وقت آیا تو وہ نوجوان میرے قریب آیا اور مجھے جرمن زبان میں مخاطب ہو کر بڑی معصومیت سے بولا کہ انکل آپ مجھے کچھ کہہ رہے تھے جو میں اس لئے سمجھ نہ سکا کہ مجھے اردو نہیں آتی اس بچے کی بےبسی پر میرے آنسو نکل آئے کہ اگر مرحوم نے اسے اردو سکھائی ہوتی تو آج وہ اسے اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتار کر ساری عمر خود بھی مطمئن رہتا اور اور شاید اس کے باپ کی روح بھی ۔ مجھے ایک سکھ نوجوان کی بات یاد آئی جس نے بتایا تھا کہ جب وہ بیرون ملک جانے کے لئے گھر سے باہر نکلا تو ماں نے دونوں ہاتھوں سے سر پر پیار دیتے ہوئے کہا کہ ” پتر پاویں ساہنوں بھل جاویں پر آپنی بولی تے آپنا دھرم نہ بھلیں” یعنی بیٹا چاہے ہمیں بھول جانا مگر اپنی زبان اور اپنا مذہب نہ بھولنا۔ کچھ سال قبل کولون کی بڑی ترکی مسجد میں ترکی صدر طیب اردگان نے خطاب کرتے ہوئے والدین پر زور دیا کہ جب تک آپ کے بچے ترک زبان پر عبور حاصل نہیں کر لیتے انہیں کنڈر گارٹن میں نہ بھیجیں یاد رکھیں بچہ جو زبان بولے گا وہی کلچرل اپنائے گا جرمن اخبارات نے طیب اردگان کے ان الفاظ پر بھرپور تنقید کی مگر ترکیوں نے اس پر عمل کیا ترک لوگ گھروں میں سختی سے اپنے بچوں کو جرمن بولنے سے منع کرتے ہیں جبکہ ہماری احتیاط اس سلسلے میں بہت کم ہے وہ والدین جو جرمن زبان پر عبور نہیں رکھتے اور ان کے بچے اردو بول نہیں پاتے الجھن کا شکار ہیں اکثر بچوں سے کمزور جرمن بول کر وہ ان کی جرمن زبان کو کمزور کرنے کا سبب بنتے ہیں جن کا سکول ٹیچر بھی نوٹس لے کو والدین کو سمجھاتے ہیں کہ گھر میں آپ ان سے اپنی زبان ہی بولا کریں ، بیس تیس سال قبل کنڈر گارٹن میں جگہ ہی اس وقت ملتی تھی جب بچہ چار سال کا ہو جاتا تھا والدین کے پاس انہیں زبان سکھانے کا کافی وقت میسر تھا اب بچہ دو اڑھائی سال کا کنڈر گارٹن میں جاتا ہے تو مادری زبان یاد نہیں کر پاتا آجکل ہر جگہ ویڈیو چینل کی بھرمار ہے روزانہ اوور سیز پاکستانیوں کے مسائل پر گفتگو ہوتی ہے جس کا زیادہ تر محور سفارت خانے اور پاکستان کے اداروں پر محیط ہوتا ہے جبکہ ہمارے اسی فیصد مسائل یہاں ہی ہیں جن پر توجہ نہیں دی جا رہی کوشش ہونی چاہیے کہ ان چینلز پر یہاں موجود
مسائل پر بھی گفتگو کی جائے آج کے چھوٹے مسائل کل کو بڑے بن کر سامنے آئے تو مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں