چناب نگر میں کلمہ حق کی گونج (تحریر : افتخار احمد .جرمنی)

1953 ء میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کی قیادت میں چلائی جانے والی ختم نبوت تحریک کا پس منظر یہ تھا کہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی قادیانی جماعت مدت سے دیکھے جانے اقتدار کے خواب کی عملی تعبیر کے لئے بیتاب تھی قادیانی ذریت کے زہن میں یہ بات راسخ ہو چکی تھی کہ حکومت ان کی جھولی میں اور اقتدار ان کے قدموں میں گرنے والا ہے قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود نے اپنے جلسہ سالانہ دسمبر 1951ء میں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ! وقت آنے والا ہے جب یہ لوگ مجرموں کی حثیت سے ہمارے سامنے پیش ہوں گے ۔ 1952ء گزرنے نہ پائے گا کہ دشمن پر احمدیت کا رعب غالب آ جائے گا اور وہ مجبور ہو کر احمدیت کی آغوش میں آ گریں گے ( روزنامہ الفضل 11 جولائی 1951 ء ) ۔ ہاں آخری وقت آن پہنچا ہے کہ ان علمائے حق کے خون کا بدلہ لینے کا ،جن کو یہ علمائے سو قتل کراتے آئے ہیں اب ان کے خون کا بدلہ لیا جائے گا ( الفضل 15 جولائی 1952 ء ۔قادیانیوں کے خلاف چلائی جانے والی تحریک شہروں میں پھیل گئی خواجہ ناظم الدین صورتحال پر قابو نہ پاسکے انہوں نے وزیر دفاع سکندر مرزا کے ذریعے جنرل اعظم کے ہاتھوں تحریک کو کچل دیا جس دوران دس ہزار شمع ختم نبوت کے پروانے شہید ہوئے ، تحریک وقتی طور پر دب تو گئی مگر راکھ سلگتی رہی جس کی چنگاریاں 1974 ء میں اس وقت شعلے بن کر دوبارہ بھڑک اٹھیں جب ملتان ٹرین میں بیٹھے ہوئے طالب علموں کو قادیانیوں نے چناب نگر ریلوے اسٹیشن پر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا ۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کا باضابطہ قیام 21-20 اپریل 1954 ء کو ملتان میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کے گھر پر عمل میں لایا گیا تھا جس کے بعد قیادت ان کے بیٹوں کے ہاتھ سے ہوتی ہوئی آج ان کے نواسے سید محمد کفیل بخاری کے ہاتھ میں ہے ہر ماہ گیارہ اور بارہ ربیع الاول کو مجلس احرار کے قافلے سرخ لباس میں قادیانی مرکز چناب نگر میں پہنچتے ہیں قادیانیوں کے اس شہر میں جہاں 1974ء سے بغیر ان کی اجازت سے پرندوں کو پر مارنے کی بھی اجازت نہ تھی اب ہر سال ہزاروں کی تعداد میں مجلسِ احرار کے پروانے دیوانہ وار چناب نگر کی گلیوں بازاروں میں نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے خاتم النبیین ﷺ کے منکروں کو دعوت حق دینے پہنچتے ہیں ، مختلف اہم مقامات پر رک رک کر تقاریر کا سلسلہ جاری رہتا ہے جس کی آخری منزل قادیانیوں کا مرکزی ہال ایوان محمود ہوتا ہے جہاں مرکزی خطاب اور قادیانیوں کو پیار ومحبت سے اسلام میں داخل ہونے کی دعوت دی جاتی ہے یہ دن قادیانیوں کے لئے ںلاوجہ خوف کی علامت ہوتا ہے دوکانیں بازار اور گھروں کی کھڑکیاں بند ، چاروں طرف کلمہ شہادت کی گونج سنائی دیتی ہے سید عطاء اللہ شاہ بخاری  ؒ کے بیٹے سید المہیمن بخاری مرحوم علالت کے باعث گاڑی میں لیٹ کر بھی چناب نگر میں خطاب کرتے رہے اس سال بھی جلوس و جلسہ و دعوت حق کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں اللہ تعالیٰ ان جرآت مند عاشقاں رسول ﷺ کی سعی قبول فرمائے آمین ثم آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں