میر شکیل الرحمن کی گرفتاری(رپورٹ : افتخار احمد .ایڈیٹر روزنامہ جذبہ جرمنی )

ملک کے سب سے بڑے اشاعتی اور نشریاتی ادارے جنگ ، جیو نیوز کے سربراہ میر شکیل الرحمن کو آج اس وقت نیب لاہور نے گرفتار کر لیا جب وہ ایک مقدمے کی پیشی کے لئے نیب آفس پہنچے تھے یہ مقدمہ 34 سال قبل دو پرائیوٹ پارٹیوں کے درمیان 54 کنال اراضی کی خریداری کا ہے جس کی پیشی کے لئے میر شکیل الرحمن پہلے بھی نیب آفس میں پیش ہوئے تھے یاد رہے کہ جنوری 2018ء میں موجودہ وزیراعظم عمران خان ایک پریس کانفرنس میں میر شکیل الرحمن کو دھمکی دے چکے ہیں کہ وہ تیار رہیں کیونکہ انہوں نے اس کے خلاف پٹیشن تیار کر لی ہے جو وہ نیب میں لے کر جا رہے ہیں ۔ جنگ جیو کے ترجمان کا کہنا ہے کہ نیب چئیر مین ان پر کی جانے والی تنقید سے پہلے ہی ناراضگی کا اظہار کر چکے ہیں اور گرفتاری اسی تنقید کا ردعمل ہے ۔جہاں صحافتی برادری نے نیب کے اس اقدام کو آزادی اظہار پر حملہ سمجھا ہے وہاں ملک بھر کے سیاسی ، مذہبی و دیگر تنظیموں کے رہنماوں نے سخت مذمت کی ہے ۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ نیب سیاسی انجینئرنگ کا ہتھیار بن چکا ہے سلیکٹڈ حکمران بزدل ہوتے ہیں جو ہمیشہ بزدلانہ کاروائیان ہی کرتے ہیں۔
مریم نواز نے گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا کو زنجیروں میں جکڑا جا رہا ہے جس کی مزاحمت کی جائے گی ۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ عمران خان نیب کے ذریعے مخالفین کو نشانہ بنا رہے ہیں وہ اس گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی کا کہنا ہے کہ گرفتاری نیازی گٹھ جوڑ کا کارنامہ اور میڈیا کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ ہے ۔
جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے کہا کہ میڈیا پر جتنا دباو آج ہے مارشل لاء کے وقت میں بھی نہیں تھا ظلم و جبر کا یہ نظام زیادہ دیر تک نہیں چلے گا ۔
آزاد کشمیر کے وزیر اعظم فاروق حیدر نے گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میر شکیل الرحمن اور ان کے خاندان کی پاکستان اور صحافت کے لئے بہت ساری خدمات ہیں یہ واقعہ حکومت کے لئے بدنامی کا باعٹ ہو گا ۔
سینٹر شیریں رحمن کا کہنا ہے کہ گرفتاری سے تمام میڈیا مالکان کو دھمکی دی گئی ہے ایسی گرفتاریوں سے صحافتی رخ تبدیل نہیں کئے جا سکتے ۔
دنیا چینل کے کامران خان کا کہنا ہے کہ گرفتاری نیب کا اشتعال انگیز کام ہے جو قابل مذمت ہے ۔
عارف نظامی نے کہا کہ گرفتاری افسوسناک ہے پرانے مقدمے اکھاڑ کر گرفتار کرنا اچھی روایت نہیں ۔
انصار عباسی کا کہنا ہے کہ نیب گزشتہ کئی برسوں سے جو کچھ کر رہا ہے وہ اختیارات کا ناجائز استعمال ہے عدالتیں پہلے بھی نیب پر سوالات اٹھا چکی ہیں ۔
صحافی نسیم زہرا کا کہنا ہے کہ گرفتاری سے نقصان ہوگا صحافی ایک بار پھر سڑکوں پر ہوں گے ۔
پی ایف یو جے کے جنرل سیکرٹری نے گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنے والوں کو ہمیشہ نقصان ہوا ہے ۔
اینکر پرسنز شاہزیب خانزادہ اور حامد میر نے کہا کہ نیب جنگ اور جیو کی تنقید سے ناراض تھا اور یہ اسی کا رد عمل ہے ۔
ترجمان جیو کا کہنا ہے کہ کہ ہم اپنے کسی بھی رپورٹر اور اینکر پرسن کو سچ سامنے لانے سے نہیں روکیں گے یہی ہماری پالیسی ہے جو جاری رہے گی ۔
جیو پر 8 جنوری 2020 ء کی ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی جس میں شیخ رشید جیو کو خبردار کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ عمران خان آپ سے مطمعن نہیں ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں