عدم اعتماد پر اختلاف ہوا،چوہدری شجاعت کے مشاورت سے اپوزیشن لیڈر نامزد ہوا ہوں

گجرات(راجہ منصور سے) رکن قومی اسمبلی و نامزد اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی چوہدری حسین الٰہی نے نت ہاؤس میں میڈیا سے ہنگامی پریس کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اللہ کے فضل و کرم سے امپورٹڈ حکومت کا بھی مقابلہ کیا ہے اور امپورٹڈ اپوزیشن کا بھی مقابلہ کرینگے ہماری اپوزیشن میں اس وقت دو جماعتیں ہیں پاکستان مسلم لیگ ق،جی بی اے،پاکستان تحریک انصاف نے اپنے استعفے دے دیئے ہیں ان کے استعفے منظور ہوتے ہیں نہیں ہوتے وہ ایک علیحدہ مسئلہ ہے جو پی ٹی آئی کے منخرک اراکین اسمبلی ہی سب سے زیادہ تعداد ان کی ہے اس کے بعد مسلم لیگ قائد اعظم اور جی بی اے کی برابر ہے اسی طرح عوامی بلوچستان پارٹی کا بھی ایک ارکان اپوزیشن میں موجو دہے جب یہ بات چل رہی تھی کہ اپوزیشن کیساتھ جانا ہے یا حکومت کیساتھ تب اکثر یہ کہا جاتا تھا کہ 5لوگوں کی جماعت ہے ان کو تین چار ہفتے مشاورت میں کیوں لگ گئے ہیں وہ اس لئے لگ رہے تھے کہ ہماری جماعت میں بھی اختلافات پیدا ہو چکے تھے میں نے اور چوہدری مونس الٰہی نے کہا تھا ہم عمران خان کا ساتھ دینگے اور دو ممبرز تھے جو اپوزیشن کیساتھ جانا چاہتے تھے اور آج یہ وجہ ہے کہ ہم 5ممبرز میں سے3 اراکین اپوزیشن کیساتھ ہیں اور دو حکومتی بینچز پہ بیٹھ گئے ہیں سوشل میڈیا پر چلنے والے چوہدری سالک حسین کے ٹویٹ کے حوالہ سے رکن قومی اسمبلی چوہدری حسین الٰہی نے کہا کہ چوہدری سالک حسین کے نام سے کسی نے جعلی اکاؤنٹ بنایا ہوا ہے جس سے وہ شخص ٹویٹ کر رہا ہے اس کے خلاف سائبر کرائم سے رابطہ میں ہوں جلد اس شخص کو سزا دلوائینگے ان کا مزید کہنا تھا کہ انشااللہ تعالیٰ قومی اسمبلی میں یہ بات ضرور کرونگا کہ جو پچھلے 2مہینے میں ہارس ٹریڈنگ دیکھی ہے یہ نہ صرف پارٹیوں کیلئے مشکل ہے بلکہ یہ ہمارے ملک کیلئے بہت بڑی پریشانی کا باعث بنے گی اگر کوئی بھی شخص4سے 2ارب روپے استعمال کرے تو حکومت ادھر کی ادھرہو جاتی ہے فلور پراسس کے اوپر ایک قانون اور اصول ہونا چاہیے اگر کسی ممبر نے فلور کراسنگ کرنی ہے تو وہ اس جماعت سے استعفیٰ دے دوبارہ الیکشن لڑ کے آئے اور پھر جس جماعت میں اس کا دل کرتا ہے جائے اور جہاں دل کرتا ہے ووٹ دے میرا پاکستان تحریک انصاف کے منخرک اراکین سے یہ سوال ہے کہ جب 2018؁ء کا الیکشن ہوا تھا تو انہوں نے کہیں نہ کہیں عمران خان اور پی ٹی آئی زند ہ بادکا نعرہ تو ضرور لگایا ہو گامجھے اس بات کا علم ضرور ہے میں پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ سے نہیں لڑا میں صرف سیٹ ایڈجسٹمنٹ میں انکے ساتھ تھا لیکن میں این اے 68میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسوں میں بھی گیا انکے ساتھیوں سے ملکر ان سے ووٹ بھی مانگیں اور میں نے اسی مینڈیٹ کو مد نظررکھتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کیا تھا کہ اگر 2018؁ ء کے الیکشن میں مجھے عمران خان کے کہنے پر ایک بندے نے بھی ووٹ دیا ہے تو میں نے اس ایک شخص کی بھی عزت رکھنی ہے اور اس کے ووٹ کا حق ادا کر کے دکھانا ہے چوہدری پرویز الٰہی، چوہدری مونس الٰہی اور میں ہم عمران خان کیساتھ کھڑے تھے کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے میرا لیڈر آف دی اپوزیشن کیلئے نامزد ہونا صرف اور صرف یہ وجہ ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ جعلی اور امپورٹڈ حکومت بنے چوہدری شجاعت حسین کی مشاورت کیساتھ مجھے اپوزیشن لیڈر کیلئے نامزد کیا گیا ہے پاکستان اس وقت بہتری کی طرف جا رہا ہے جس طرح پاکستان کی عوام اپنے حق کیلئے کھڑی ہو گئی ہے اور یہ ہی پہلی نشانی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ واقعہ میں ہمارا ملک بدلنے لگا ہے جو پرانی اور روایتی سیاست تھی لوگ اس سے باہر نکل چکے ہیں لوگ اب اپنے ایم این اے سے سوال پوچھتے ہیں کہ وہ اپنے حلقہ اور عوام کیلئے کیا کر رہا ہے اس ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کی سیاست ایک بہترٹریک پر نکل پڑی ہے 8/10پارٹیوں کیساتھ ملکر جو حکومت بنائی گئی ہے اس میں مسلم لیگ قائد اعظم کے بھی دو ممبرز شامل ہیں یہ حکومت 2.3ماہ سے زیادہ نہیں چل سکے گی ان کے اندر بہت جلد اختلافات پیدا ہو جائینگے اور اس کے علاوہ عوام کا پریشر جو ان پر پڑ رہا ہے یہ انشااللہ اس حکومت کی برداشت سے باہر ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں