گجرات:غیرسنجیدگی‘ایک ہفتے میں اموات 4سے بڑھ کر 18ہو گئیں:ڈپٹی کمشنر

گجرات(صابر علی صابر)ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر خرم شہزاد نے کہاہے کہ گوجرانوالہ ڈویژن میں سب سے زیادہ کرونا ٹیسٹ ضلع گجرات میں ہوئے، ضلع مریضوں میں ریکوری کی شرح 48فیصد ہے، گمنام کرونا مریض اپنے خاندان اور عزیز و اقارب کی صحت کیلئے بڑا خطرہ ہیں، ایسے افراد کیوجہ سے مریضوں کی تعداد میں اضافہ، ایک ہفتے میں اموات 4سے بڑھ کر 18ہو گئیں، شہری کرونا سے بچاؤ کیلئے ایس او پیز پر عمل درآمد کریں، بلا ضرورت، بغیر ماسک باہر نہ نکلیں، ماسک استعمال نہ کرنیوالوں سے ملنے سے انکار کر دیں،ہسپتالوں میں ڈاکٹرز و طبی عملہ کیلئے وافر مقدار میں پی پی ای کٹس دستیاب ہیں،زیر علاج مریضوں کو کھانا کی فراہمی کیلئے مخیر حضرات نے قابل تحسین کردار ادا کیا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا کے نمائندوں کو ضلع گجرات میں کرونا وبا، مریضوں کو علاج معالجہ کی سہولیات بارے بریفنگ کے دوران کیا، اے ڈی سی جی توقیر الیاس چیمہ، سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر زاہد تنویر، ڈی ایچ او ڈاکٹر ایاز ناصر چوہان بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر خرم شہزاد نے کہا کہ ضلع گجرا ت میں ابتک7256افراد کے کرونا ٹیسٹ کئے گئے، 6921کے ٹیسٹ نیگٹو717کے پازیٹو آئے، 344مریض صحت یاب ہو چکے،18کی اموات ہو گئیں، 355زیر علاج ہیں، حکومت پنجاب کی پالیسی کے مطابق کرونا پازیٹو مریضوں کو گھروں میں قرنطینہ کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع گجرا ت میں شرح اموات 2.4فیصد، مرنیوالوں میں 70فیصد مرد30فیصد خواتین ہیں، کرونا کا شکار ہونیوالوں میں مرد و خواتین کا یہی تناسب ہے، کرونا پازیٹو آنیوالوں میں 20 سے55سال کے مریضوں کی تعداد 50فیصد ہے،پاکستان میں اس وقت ہر لاکھ میں سے 27ضلع گجرات میں ہر لاکھ میں سے20افراد کرونا سے متاثر ہو سکتے ہیں، مریضوں کے علاج کیلئے معیاری ادویات فراہم کی جارہی ہیں، ضلع میں پلازمہ تھیراپی کے آغاز کیلئے بھی اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے کرونا وبا کے دوران ضلعی انتظامیہ کو ایک کروڑ روپے کے فنڈز دیے جبکہ عزیز بھٹی شہید ہسپتال کو 10کروڑ روپے بجٹ دیا گیا جس میں سے ادویات کی خریداری سمیت دیگر اخراجات کئے جارہے ہیں جبکہ فیلڈ ہسپتال بھی انہیں فنڈز سے بنایا گیا ہے، دو سو بیڈ پر مشتمل یہ ہسپتال صرف ایک ہفتے میں تیار کر لیا گیا تھا۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ عزیز بھٹی شہید ہسپتال میں کرونا وبا سے قبل15وینٹی لیٹرز تھے، مخیر حضرات کے تعاون سے انکی تعداد بڑھا کر 32کر دی گئی، تمام دستیاب وینٹی لیٹرز میں سے 22کرونا وارڈ کیلئے مختص ہیں جبکہ باقی دیگر مریضوں کے لئے استعمال کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کرونا وبا کے دوران مخیر حضرات کے بھرپور تعاون کو زبردست سراہا اور کہا کہ روزانہ 300سے زائد افراد کو تین وقت کھانا صاحب ثروت افراد کے تعاون سے فراہم کیا جار ہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عزیز بھٹی شہید ہسپتال، ٹی ایچ کیو ہسپتالوں اور قرنطینہ سنٹرز کیلئے وافر مقدار میں پی پی ای کٹس دستیاب ہیں، کرونا کے خلاف فرنٹ الائن سولجرز ڈاکٹرز و طبی عملہ کی ضروریات کا مکمل خیال رکھا جارہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ کرونا وبا کیوجہ سے ضلع کے 116علاقوں کا مکمل یا جزوی لاک ڈاؤن کیا گیا تھا، یہ علاقے 8504گھرانوں اور 53ہزار افراد پر مشتمل تھے تاہم ابتک 89علاقوں سے لاک ڈاؤن ختم کر دیا گیا ہے جہاں 8240گھرانے اور 52ہزار کے قریب افراد مقیم ہیں، انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ کرونا سے بچاؤ کیلئے ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنائیں، بلا ضرورت گھر سے باہر نہ جائیں، بغیر ماسک باہر نہ نکلیں اور ماسک کے بغیر آنیوالوں سے ملنے سے انکار کر دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں